دفاعی تعاون میں اضافہ، امریکی وزرا خارجہ اور دفاع 10 نومبر کو بھارت پہنچیں گے

بدھ 8 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن 10 نومبر کو کو پانچویں بھارت-امریکا 2+2 وزارتی ڈائیلاگ میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے، اس دورے کا مقصد دفاعی تعاون میں اضافہ اور خطے میں چین کے اثرورسوخ کو کم کرنا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سال دوطرفہ بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاع، سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کا اعلیٰ سطحی جائزہ لیا جائے گا۔ 2+2 ڈائیلاگ کے علاوہ امریکی وزرا اپنے بھارتی ہم منصبوں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے خصوصی ملاقاتیں بھی کریں گے۔

یہ ڈائیلاگ کتنا اہم ہے؟

امریکی اور بھارتی حکام کے درمیان اس ڈائیلاگ کو بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، یہ بات چیت مضبوط شراکت داری کے علاوہ دونوں ملکوں کے آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کو عملہ جامہ پہنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ حماس اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکا مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے دفاع کے لیے سفارتی اور عسکری لحاظ سے ہرممکن کوششوں میں مصروف ہے مگر اس کے باوجود بائیڈن انتظامیہ کی ترجیحی حکمت عملی میں چین سے نمٹنا اب بھی سرفہرست ہے۔

سینئر امریکی حکام کن ممالک کا دورہ کر رہے ہیں؟

اس حکمت عملی کے پیش نظر بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ ترین قومی سلامتی کے اہلکار رواں ہفتے ہند بحرالکاہل کا سفر کر رہے ہیں، امریکی میڈیا کے مطابق انٹونی بلنکن، لائیڈ آسٹن اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل سی کیو براؤن سبھی شراکت داروں اور اتحادیوں سے ملاقات کے لیے رواں ہفتے پورے ہند بحرالکاہل خطے کا دورہ کریں گے۔

آسٹن بدھ کو بھارت، انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کے 10 روزہ دورے پر پہلے ہی روانہ ہوچکے ہیں۔ بلنکن بھی گزشتہ ہفتے اسرائیل، اردن، ترکی، جنوبی کوریا اور جاپان کے 10 روزہ دورے پر روانہ ہوئے۔

امریکی حکام گزشتہ کئی سال سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ چین امریکا کا سب سے بڑا حریف ہے، امریکا اور چین کے درمیان گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران خصوصاً اسپیکر نینسی پیلوسی کے اگست 2022ء میں تائیوان کے دورے کے بعد تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ رواں سال کے آغاز میں امریکی فضا میں چینی جاسوس غبارے کی متنازعہ موجودگی اور حال ہی میں چینی لڑاکا طیارے کا بحیرہ جنوبی چین پر امریکی فضائیہ کے بی 52 بمبار کے قریب آ جانے جیسے واقعات نے دونوں ملکوں میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبی تنازع: بنگلہ دیش کا مسئلے کے حل کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرنے کا اعلان

اسلام قبول کرنے والی لڑکی کو دارالامان بھیجنے کا حکم، آئینی عدالت میں اہم ریمارکس

بہاولپور پلازہ تنازع کیس: وکیل کی فیس واپسی اور ’ڈن بیسز ریلیف‘ پر اہم عدالتی فیصلہ

پشاور: امریکی قونصل خانہ کی بندش، اب سفارتی امور کہاں انجام دیے جائیں گے؟

27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی