جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 20 نومبر کو طلب

منگل 14 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایات کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 20 نومبر کو طلب  کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے والے افراد کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کیا ہے، اجلاس میں جسٹس مظاہر نقوی کے علاوہ جسٹس سردار طارق مسعود خان کے خلاف شکایات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

اجلاس میں جسٹس مظاہر نقوی کے اعتراضات پر بھی غور کیا جائے گا اور انہیں جواب کا موقع دیا جائے گا۔ کونسل کی جانب سے جسٹس سردار طارق کے خلاف شکایت کنندگان کو شواہد کے ہمراہ طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے 27 اکتوبر کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری اور ان سے  14 روز میں جواب طلب کیا تھا۔

جسٹس مطاہر نقوی نے اظہار وجوہ کا جواب دینے کے بجائے 10 نومبر کو سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنے اعتراضات جمع کروائے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ کونسل میں شامل ارکان ان کے بارے میں جانبدار ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل نے اظہار وجوہ کے نوٹس میں بھی جانبداری کا مظاہرہ کیا جس کا جواب نہیں دیا جاسکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 40 جے ایف-17 طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر مذاکرات جاری، رائٹرز کی رپورٹ

کشمیر کی وادی شکسگام ہماری ہے، چین نے بھارت کی چھٹی کرادی

سیکیورٹی نے عامر خان کو اپنے ہی دفتر سے باہر کیوں نکال دیا؟

امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

نیو یارک: وفاقی حکام کی جانب سے سٹی کونسل ملازم کی گرفتاری، میئر ظہران ممدانی کا شدید ردعمل

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘