حج درخواستیں وصول کرنے کی تاریخ کا اعلان، خواتین کو اہم رعایت مل گئی

اتوار 26 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں حج درخواستوں کی وصولی کا آغاز کل سے ہو گا جس کے لیے 15 بینکوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

وزارت مذہبی امور سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری اسکیم کے تحت حج درخواستیں 27 نومبر سے 12 دسمبر تک وصول کی جائیں گی۔

اعلامیے کے مطابق آئندہ برس 2024 میں تقریباً 89 ہزار 605 پاکستانی شہری سرکاری اسکیم کے تحت فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جا سکیں گے۔

وزارت مذہبی امور کے مطابق خواتین کو پہلی بار محرم کے بغیر فریضہ حج ادا کرنے کی اجازت ہو گی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اگر درخواستیں مقررہ تعداد سے زیادہ موصول ہوئیں تو اس صورت میں قرعہ اندازی کے ذریعے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپانسر شپ اسکیم کے تحت درخواستیں ڈالرز کے ہمراہ بیرون ملک سے جمع کرانا ہوں گی، اس اسکیم کے تحت درخواست دینے والے قرعہ اندازی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

وزارت مذہبی امور نے کہا ہے کہ حج درخواستیں جمع کرانے کے لیے ضروری ہے کہ دسمبر 2024 تک کارآمد شناختی کارڈ موجود ہو اور حج درخواستیں جمع کرانے کے لیے 15 بینکوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘