اسلام آباد سائیکل ریس میں حصہ لینے والے حضرت بلال عام زندگی میں کیا کرتے ہیں؟

جمعہ 8 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’ٹور دی اسلام آباد‘ نامی سائیکل ریس کے لیے ملک بھر سے پروفیشنل سائیکلسٹس دارلحکومت کا رخ کر لیا ہے۔ ریس کے پہلے دن سائیکلسٹس نے اسلام آباد کے پرانے چڑیا گھر سے مونال ریسٹورنٹ تک سائیکلنگ کی۔ ریس کے دوسرے دن سائیکلسٹس اسلام آباد سے مری تک 68 کلومیٹر کا سفر کریں گے اور تیسرے اور آخری دن اسلام آباد شہر کے اندر ہی سو کلومیٹر تک کے ٹریک پر سائیکلنگ کریں گے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے لکی مروت سے آئے سائیکلسٹ حضرت بلال نے بتایا کہ وہ اپنے ڈویژن سے اس ریس کے لیے آنے والے واحد فرد ہیں۔

بلال کے مطابق اس پسماندہ علاقے میں وہ کھیتی باڑی کر کے اپنے معاملاتِ زندگی چلاتے ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ثمرین خان کے مطابق چونکہ بلوچستان کی کوئی ٹیم نہیں ہے، اس لیے وہ خیبر پختونخواہ کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

ثمرین خان کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بلوچستان کی نمائندگی کیوں نہیں کر رہی ہیں‘ کیونکہ وہ ہر جگہ پاکستان کی ہی نمائندگی کر رہی ہوتی ہیں۔ اسلام آباد کے محمد دانش کے بقول اس ریس کی تیاری کے لیے انہیں روزانہ 4، 5 گھنٹے پریکٹس کرنا پڑتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘