ہمیں 6 دن کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے ساڑھے چار دن کی نہیں: چیف جسٹس فائز عیسیٰ کا ساتھی جج کو خط

منگل 12 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کو 18 نومبر کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا ہے۔

چیف جسٹس نے خط میں لکھا ہے کہ میرے دروازے اپنے تمام ساتھیوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ میں انٹرکام اور فون پر بھی ہمیشہ دستیاب ہوں۔

آپ کا خط ملنے پر فوری رابطے کی کوشش کی، چیف جسٹس

انہوں نے جسٹس اعجازالاحسن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ نے اپنے تحفظات کے لیے مجھے کال کی نہ ملاقات کے لیے آئے۔ آپ کا خط ملنے پر فوری آپ کے انٹرکام پر رابطہ کی کوشش کی لیکن جواب نہ ملا۔

چیف جسٹس نے لکھا کہ میں نے اپنے اسٹاف کو آپ کے ساتھ رابطے کا کہا تو بتایا گیا کہ آپ جمعہ دوپہر کو لاہور چلے گئے ہیں۔ ’ہمیں 6 دن کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے نہ کہ ساڑھے 4 دن کی۔

’آپ کے اعتراضات حقائق اور ریکارڈ کے بر خلاف ہیں، بینچز کی تشکیل کے حوالے سے کوئی تجویز ہے تو بتائیے اس حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا‘۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ جج کی پہلی ذمہ داری عدالتی فرائض کی انجام دہی ہے۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ مشورہ کرنے میں دلچسپی نہ ہوتی تو جس ایکٹ کو آپ نے معطل کیا تھا اس پر عمل کیوں کرتا؟ اگر مجھے ججز کمیٹی کے فیصلوں پر عمل نہ کرنا ہوتا تو اس کارروائی کو پبلک کیوں کرتا؟۔

خصوصی بینچز کسی جج کو نکالنے یا ڈالنے کے لیے تشکیل نہیں دیے جا رہے

خط میں لکھا گیا ہے کہ بینچز کی تشکیل ظاہر کرتی ہے کہ ہر جج کو ایک جیسا احترام دیا جاتا ہے، خصوصی بینچز کسی جج کو نکالنے یا ڈالنے کے لیے تشکیل نہیں دیے جا رہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن نے گزشتہ روز رجسٹرار کو خط لکھ کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی جانب سے نومبر میں بھی اعتراض اٹھایا گیا تھا جس کا چیف جسٹس نے جواب دیا اور اب وہ خط سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت، ہم مطالبہ نہیں بلکہ تجویز کی حمایت کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے

آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں پر پولنگ 24 اگست کو، امیدواروں کے نام بھی سامنے آگئے

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

نئے انتظامی یونٹس کے بغیر بہتر گورننس ممکن نہیں، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کا اتفاق

ویڈیو

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

اسلام ماخا چیف کی ’یو ایف سی‘ فائٹ میں مسلسل 17 ویں فتح، نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کردیا

ایران کا ہرمز کھولنے سے قبل امریکا سے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

کالم / تجزیہ

انکار کا اعزاز

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں