پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے انتخابی منشور کا اعلان، عوام سے کیا وعدے کیے گئے ہیں؟

منگل 9 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز (پی ٹی آئی پی) کے سربراہ پرویز خٹک نے انتخابی منشور کا اعلان کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کی جانب سے سامنے لائے گئے منشور میں تحریک انصاف حکومت کی 10 سالہ ریفارمز پالیسی کو ہی شامل کیا گیا ہے جبکہ پرویز خٹک اور محمود خان کی تصویریں نمایاں لگائی گئی ہیں۔

پالیسی دیں گے اور ساتھ عملدرآمد بھی کریں گے، پرویز خٹک

منشور کا اعلان کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہاکہ وہ پالیسی دیں گے اور اس پر عملدرآمد بھی کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ صرف تقریریں اور اعلانات سے کچھ نہیں ہو گا۔ سب سے پہلے سسٹم کو ٹھیک کرنا ہوگا، جو صرف 90 روز کا کام نہیں۔

پرویز خٹک نے کہاکہ منشور پر 4 مہینے لگ گئے، مختلف مکتبہ فکر نے منشور میں حصہ ڈالا۔ ایسے دعوے نہیں کریں گے جو پورے نہیں کرسکتے۔ عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ جو کہیں گے وہ کرکے دکھائیں گے۔

پی ٹی آئی دور کی تعلیمی ریفارمز منشور کا حصہ

پرویز خٹک نے منشور میں تحریک انصاف دور کی تعلیمی ریفارمز کو جاری رکھنے کا اعلان کیا اور موقف اپنایا کہ گزشتہ 8 سالہ دور حکومت میں مثالی کام ہوئے۔

انہوں نے کہاکہ میرے دور میں بچے نجی اسکولز چھوڑ کر سرکاری اسکولوں میں آئے تھے۔ ہم نے اساتذہ کی غیر حاضریاں ختم کیں جس کے بعد تعلیم کے شعبے میں بہتری آئی۔

پرویز خٹک نے کہاکہ ہم اقتدار میں آکر یکساں نظام تعلیم متعارف کرائیں گے۔ مدرسہ، سرکاری اور نجی اسکولز کے درمیان فرق ختم کریں گے۔

صحت کارڈ کو دوبارہ فعال کریں گے

پرویز خٹک نے کہاکہ میری حکومت کے دور میں صحت کارڈ کا پروگرام شروع کیا گیا جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ صحت کارڈ ختم کرنا غریب کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ دوبارہ حکومت آئی تو صحت کارڈ کو فعال کریں گے۔

ہر یونین کونسل میں گراؤنڈ

سربراہ پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز نے کہاکہ ان کی حکومت آئی تو کھیل کو ترجیح دیں گے اور صوبے کی ہر یونین کونسل میں ایک گراؤنڈ بنائیں گے۔ ’تعلیم، صحت اور کھیل کے بعد پہلی ترجیح سیاحت ہوگی‘۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں سڑکیں اور اسکولز آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائیں گے، موقع ملا تو بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کے ساتھ فنڈز بھی دیے جائیں گے۔

الیکشن کے لیے تیار ہیں

منشور کے اعلان کے بعد سوالوں کے جواب دیتے ہوئے پرویز خٹک کہا کہ انتخابات ہونے چاہییں اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ جب میری خیبرپختونخوا میں حکومت تھی تو پارٹی چیئرمین نے اصلاحات کے لیے کوئی ہدایات نہیں دیں۔

صحت کارڈ کا آئیڈیا جہانگیر ترین کا تھا

پرویز خٹک نے کہاکہ عمران خان کو اصلاحات کے حوالے سے کچھ پتا ہی نہیں تھا۔ صحت کارڈ کا آئیڈیا جہانگیر ترین کا تھا جس پر ہم نے عملدرآمد کیا۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی ماحول کا نہیں پتا لیکن ہمارا ماحول گرم ہے اور مہم زور و شور سے جاری ہے۔

انہوں نے کہاکہ مجھے نہیں معلوم مولانا فضل الرحمان کدھر گئے، میری نظر الیکشن پر ہے مولانا پر نہیں۔

پی ٹی آئی کی مقبولیت کے حوالے سے وی نیوز کے سوال پر پرویز خٹک نے موقف اپنایا کہ تحریک انصاف ختم ہو چکی ہے۔ اب ہماری جماعت ہی تحریک انصاف ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایپل کے نئے فولڈ ایبل آئی فون کی اسکرین ٹوٹنے لگی، کمپنی کا متبادل فون دینے کا اعلان

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو جبر سے نہیں دبایا جا سکتا، اسحاق ڈار

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

صدر آصف زرداری کا اقوامِ متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ

نماز کی پابندی نے ہمایوں سعید کی زندگی کیسے بدل دی؟ اداکار کا بڑا انکشاف

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں