الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر قانونی ہے، پی ٹی آئی بلے کی حقدار ہے: پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

ہفتہ 13 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا، اپنے مختصر تحریری فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ نے لکھا کہ پی ٹی آئی انتخابی نشان کی حقدار ہے الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کا جاری کردہ مختصر تحریری فیصلہ جسٹس ارشد علی نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری کیا جائے۔

پشاور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی انتخابی نشان کی بھی حقدار ہے، تفصیلی فیصلہ مزید وجوہات اور وضاحت کے ساتھ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عدالت نے خود کو 2 سوالات تک محدود رکھا، سیاسی جماعت بنانا پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور سیاسی جماعتوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔

پشاور ہائیکورٹ کے مطابق انتخابی نشان کے تحت الیکشن لڑنے کا حق بھی حاصل ہے، انتخابی نشان کے آئینی حق سے انکار نہیں کیا جاسکتا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔

واضح رہے کہ 10 جنوری کو پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا