سندھ حکومت کی جانب سے صوبے میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کے دعوؤں کے باوجود ضلع میرپورخاص کی تحصیل جھڈو میں سرکاری تعلیمی نظام کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں اساتذہ کی شدید کمی اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکھر میں کاٹن فیکٹری کی گرد سے شہری پریشان، سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالات
تحصیل کے 208 سرکاری اسکولوں میں مجموعی طور پر 16 ہزار 40 بچے زیر تعلیم ہیں جنہیں پڑھانے کے لیے صرف 270 اساتذہ دستیاب ہیں جبکہ متعدد اسکول عمارتوں سے محروم ہونے کے باعث طلبہ چھپروں اور جھونپڑوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
اس صورتحال کی ایک نمایاں مثال نوکوٹ کی ہریجن کالونی کا گورنمنٹ پرائمری اسکول ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے اپنی عمارت کے بغیر چل رہا ہے۔ یہاں 90 سے زائد بچے اور بچیاں ایک خستہ حال کمیونٹی سینٹر کی بانسوں سے بنی چھت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول میں پینے کے صاف پانی، واش رومز اور فرنیچر سمیت بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں ہیں۔
اسکول کی اس ابتر صورتحال پر مقامی شہریوں اور والدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور بچوں کو تعلیم کے لیے محفوظ اور مناسب عمارت فراہم کی جائے۔
مزید پڑھیے: حیدرآباد: نرالا طرز تعمیر، سڑک کے بیچوں بیچ بجلی کی کھمبوں کی سوشل میڈیا پر دھوم
شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں بیٹھ کر اندرون سندھ کے مسائل مؤثر انداز میں حل نہیں کیے جا سکتے اس لیے مقامی مسائل کے حل کے لیے مقامی سطح پر بااختیار حکومتوں کا قیام ضروری ہے۔ دیکھیے شکیل احمد مجاہد کی یہ ویڈیو رپورٹ۔










