ٹرمپ مقبولیت میں آگے، بائیڈن کم ترین سطح پر آگئے: امریکی سروے

پیر 15 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبولیت کے اعتبار سے اپنے ریپبلکن مخالفین سے آگے نکل گئے ہیں۔ ایک نئے سروے کے مطابق امریکی عوام کی زیادہ تعداد نے موجودہ صدر جو بائیڈن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جس سے ان کی مقبولیت نئی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

اے بی سی نیوز کی جانب سے کرائے گئے حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کو 3 محاذوں پر دوسرے ریپبلکن امیدواروں پر برتری حاصل ہے۔ ان امیدواروں میں رون ڈی سینٹس، نکی ہیلی، وویک رامسوامی اور آسا ہچنسن شامل ہیں۔

کم از کم 68 فیصد ریپبلکنز اور ریپبلکن پارٹی کی طرف جھکاؤ رکھنے والے آزاد امیدواروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ رواں برس نومبر میں منتخب ہونے کا ’بہترین موقع‘ رکھنے والے امیدوار ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کامیابی کی شرح ہیلی کے لیے 12  فیصد، ڈی سینٹس کے لیے 11 فیصد اور باقیوں کے لیے اس سے بھی کم ہے۔ اس سروے میں ٹرمپ کو دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں ’مضبوط ترین لیڈر‘اور بطور صدر خدمات انجام دینے کے لیے ’سب سے زیادہ اہل‘ قرار دیا گیا ہے۔

اس سروے میں ٹرمپ ایسے امیدوار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ان کی مشترکہ قدار کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں اور عوام کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ تاہم چار سالہ کالج ڈگری کے حامل ریپبلکنز کی زیادہ تعداد نے غیر گریجویٹس کی نسبت ہر سوال پر ٹرمپ کو موزوں یا بہترین منتخب کرنے سے احتراز برتا۔ 57 فیصد غیر گریجویٹس کے مقابلے صرف 27 فیصد کالج ڈگری ہولڈرز کا ماننا تھا کہ ٹرمپ ان جیسے لوگوں کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔

جو بائیڈن

سروے کے مطابق، مجموعی طور پر 70 فیصد سے زیادہ ریپبلکن بالغ افراد ٹرمپ کے بطور صدارتی امیدوار ہونے سے مطمئن ہیں۔ اس کے مقابلے میں 57 فیصد ڈیموکریٹس پارٹی کی جانب سے صدر بائیڈن کو منتخب کیے جانے پر ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔

سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام نے بائیڈن کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور ان کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے جو گزشتہ 15 برسوں میں کسی بھی امریکی صدر کے لیے کم ترین ہے۔ اس وقت صرف 33 فیصد ووٹرز نے صدر جو بائیڈن کی کارکردگی پر اطمینان جبکہ 57 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم سے کم 36 فیصد رہی تھی۔

صرف 31 فیصد خواتین نے صدر بائیڈن کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا جو اب تک سب سے کم تعداد ہے۔ 2020 میں بائیڈن نے 57 فیصد خواتین اور 34 فیصد مرد ووٹرز کا اعتماد حاصل کیا تھا۔

سیاہ فام اور ہسپانوی ووٹرز بھی بائیڈن کی بطور صدر کارکردگی سے خوش نہیں۔ سیاہ فام لوگوں میں بائیڈن کے لیے پسندیدگی اوسط سے 21 اور ہسپانوی لوگوں میں اوسط سے 15 پوائنٹس کم ہے۔ جبکہ سفید فام لوگوں کی تعداد اوسط سے 6 پوائنٹس کم پائی گئی۔

البتہ 41 فیصد لوگوں نے بائیڈن جبکہ 26 فیصد نے ٹرمپ کو ایماندار اور قابل اعتبار قرار دیا تاہم زیادہ ووٹرز سمجھتے ہیں کہ بائیڈن کی نسبت ٹرمپ کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار