جنرل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اہم کیوں؟

جمعہ 6 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

پاکستان آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اپنے پہلے بیرونی دورے کے پہلے مرحلے میں گذشتہ دو روز سے سعودی عرب میں ہیں۔ جس کے بعد وہ اگلے مرحلے میں متحدہ عرب امارات جائیں گے۔

جنرل عاصم منیر نے اس دورے کے دوران سعودی عرب کے اعلیٰ حکومتی اور عسکری حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ جن میں وزیر دفاع اور خالد بن سلیمان کے علاوہ سعودی ہم منصب جنرل فیاض الرویلی سے بھی ملاقات شامل ہے۔ جب کہ سعودیہ پہنچنے پر ان کا استقبال رائل سعودی لینڈ فورسز کے ہیڈ کوارٹر میں لینڈ فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ المطائی نے کیا۔

یوں تو یہ دورہ اس روایت کا حامل ہے جس کے مطابق پاکستان میں تعینات ہونے والا چیف آف آرمی اسٹاف سرزمین حرم پر حاضری دیتا اور اس دوران اعلیٰ سعودی حکام سے ملاقاتیں کرتا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان کو ایک طرف شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ اور دوسری طرف دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، جنرل عاصم منیر کے اس دورے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ 

آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب کی اسٹریٹجک اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے گھیرے برادارانہ تعلقات میں بندھا ہے۔ 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟