مرتضی بھٹو قتل کیس: ملزمان کی بریت کی درخواست پر سماعت ایک ہفتے تک ملتوی

منگل 23 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ نے مرتضی بھٹو قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی ہے۔

سندھ ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کے بھائی مرتضی بھٹو کے قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے خلاف اپیلوں کی سماعت جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کی۔

ملزم پولیس افسران اور مرتضی بھٹو کے بیٹے ذوالفقار جونیئر عدالت میں پیش ہوئے، ذوالفقار جونیئر کے ساتھ کارکن بھی عدالت میں موجود تھے۔

اس موقع پر ملزمان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے، سپریم کورٹ نے ذوالفقارعلی بھٹو کیس کی سماعت الیکشن کے بعد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کیس کو بھی الیکشن کے بعد ہی سنا جائے۔

سابق پولیس افسر واجد درانی کے وکیل نے اپنے موکل کی حاضری سے استثنیٰ کے لیے درخواست جمع کرواتے ہوئے استدعا کی کہ واجد درانی بیمار ہیں حاضری سے مستقل استثنیٰ دیا جائے، عدالت نے واجد درانی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے ملزم پولیس افسر رائے طاہر اور دیگر کو بھی حاضری سے استثنیٰ دے دیا ہے۔

ملزمان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جب عدالت ضرورت محسوس کرے گی ملزم پیش ہوجائیں گے، کیس میں نامزد شاہدحیات کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا گیا۔

ملزمان کے وکیل نے مؤقف دہرایا کہ میر مرتضی بھٹو کے ملازم نورمحمد گوگا نے ملزمان کی بریت کے خلاف 2010 میں اپیل دائر کی تھی، واقعہ کے بعد سرکار اور مرتضی بھٹو کی ملازم نور محمد کی مدعیت میں 2مقدمات درج کئے گئے، دسمبر 2009 میں ماتحت عدالت نے 20 پولیس افسران کو بری کردیا تھا۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیے کہ انشاءاللہ آئندہ سماعت پر دلائل سننا شروع کریں گے اور کیس کہ سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

ہمیں صرف عدالتی نظام سے امیدیں ہیں، ذوالفقار جونیئر

بعد ازاں میرمرتضی بھٹو کے بیٹے ذوالفقارجونیئر نے سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیس کےتمام افراد کو رہا کردیا گیا کسی کو بھی ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ 8 افراد کوقتل کیا گیا ہو اور کوئی ذمہ دار نہ ہو۔

ذوالفقار جونیئر نے کہا کہ میں عدالت میں انصاف مانگنے آیا ہوں، جو افراد اپیل میں نامزد ہیں وہی ملزم ہیں، انہیں ترقیاں دی گئی اور ان کو تحائف بھی دیے گئے، وہ لوگ جو کیس میں ملوث تھے وہ آج ملک سے مراعات لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں صرف عدالتی نظام سے امیدیں ہیں، ذوالفقاربھٹوقتل کیس میں اپیل میں ہم فریق بنے ہیں۔‘

واضح رہے کہ میر مرتضی بھٹو قتل کیس میں ان کے ملازم نور محمد گوگا نے ملزمان کی بریت کے خلاف 2010 میں اپیل دائر کی تھی،اپیل میں کہا گیا تھا کہ 20 ستمبر 1996 کو میر مرتضی بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو گھر کے قریب گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، واقعہ کے بعد سرکار اور مرتضی بھٹو کی ملازم نور محمد کی مدعیت میں 2مقدمات درج کئے گئے تھے۔

دسمبر 2009 میں ماتحت عدالت نے پولیس افسران کو بری کردیا تھا،اسی عدالت نے مرتضی بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو بھی مقدمے سے بری کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں