نہیں چاہتے کہ معاملات دوبارہ الیکشن کی طرف جائیں، عرفان صدیقی

منگل 20 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ معاملات دوبارہ الیکشن کی طرف جائیں، اگر اسمبلی ٹوٹ گئی تو پھر کچھ معلوم نہیں کہ 90 روز میں الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہاکہ یپپلزپارٹی کے ساتھ بہت جلد معاملات طے ہو جائیں گے، بلاول بھٹو کی شرائط پر معاملہ طے ہونا یہ ان کی خواہش ہو سکتی ہے، دو جماعتیں جب بیٹھتی ہیں تو یکطرفہ شرائط نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم ہر قیمت پر حکومت بنانا چاہتے ہیں، ہماری ایک مجبوری ضرور ہے کہ نظام ڈی ریل نہ ہو۔

عرفان صدیقی نے کہاکہ یہ شرائط منوانے یا مسلط کرنے کا وقت نہیں، ہم بارگینگ نہیں کر رہے بلکہ سرینڈر کررہے ہیں تاکہ نظام بچ جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان حکومت سازی کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے شہباز شریف کو وزیراعظم کے لیے نامزد کیا ہے اور پیپلزپارٹی نے کہا ہے کہ ہم وزارت عظمیٰ کے لیے مسلم لیگ ن کو ووٹ ضرور دیں گے لیکن وزارتیں نہیں لیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟