بلوچستان کی گورننس کو بہتر بناؤں گا، نامزد وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

جمعہ 1 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے بلوچستان کے لیے نامزد وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کی گورننس کو بہتر بنائیں گے۔

پیپلز پارٹی کے نامزد وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے  بلوچستان اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کی گورننس کو بہتر بنائیں گے، کوشش ہوگی کہ اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ آصف زرداری، بلاول بھٹو اور صوبائی قیادت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے وزارت اعلیٰ کے لیے انہیں نامزد کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی کی تمام جماعتوں کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈھائی سال والے فارمولے کے حوالے سے پارٹی کی مرکزی قیادت بہتر بتا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی مجلس عاملہ نے کسی بھی حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری طرف رہنما پاکستان پیپلزپارٹی ثنا اللہ زہری نے کہا ’سرفراز بگٹی کو وزیر اعلیٰ نامزد ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہمارا مکمل تعاون سرفراز بگٹی کے ساتھ رہے گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ جس طرح انہوں نے وزیر داخلہ کے طور پر کام کیا ایسے ہی وزیر اعلیٰ کے طور پر بھی کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟