پی ٹی آئی کا احتجاج: انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی ذمہ دار پشاور انتظامیہ انتظامات پر مامور

جمعہ 8 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 10 مارچ کو پشاور میں بھی عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور نتائج میں ردوبدل کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا جاچکا ہے، جس کے لیے ضلعی انتظامیہ نے انتظامات کرتے ہوئے انتظامی اور پولیس افسروں پر مشتمل 5 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

کمشنر آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی میں اے سی سٹی، ایس پی سیکیورٹی، پی ڈی اے اور دیگر اداروں کے نمائندے شامل ہیں، جو انتظامات اور سیکیورٹی کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے انتظامات کو یقینی بنائے گی۔

پہلے کارنر میٹنگ کی اجازت بھی نہیں، اب انتظامات؟

8 فروری کے عام انتخابات سے پہلے تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں شدید مشکلات سے دوچار تھی، الیکشن کے لیے انتخابی مہم میں بھی متعدد رکاوٹوں کا سامنا تھا، لیکن اب پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد وہی انتظامیہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے۔

تحریک انصاف پشاور کے صدر شیر علی ارباب نے بتایا کہ تحریک انصاف پشاور کے رنگ روڈ کبوتر چوک پر احتجاج کرے گی، اس ضمن میں انتظامیہ کو آگاہ کردیا گیا ہے، جو اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کر رہی ہے، احتجاجی جلسے کے لیے پولیس مکمل سکیورٹی فراہم کرے گی۔

’اب حالات بدل گئے ہیں، حکومت میں آنے کے بعد ان کے خلاف سرگرم انتظامیہ اور پولیس اب مکمل تعاون کر رہی ہے، یہ طاقت اور اختیار کی بات ہے، اب ہماری حکومت ہے، سرکاری حکام غلط کام نہیں کر سکتے، وہ کام کریں گے جو جس کی انہیں ہماری صوبائی حکومت ہدایت دے گی۔‘

شیر علی ارباب کے مطابق عام انتخابات سے پہلے انتظامی افسروں کو ہدایات کہیں اور سے ملتی تھیں لیکن اب انہیں ہدایت پی ٹی آئی کی حکومت دے رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان حکومت کسی کو شرمندہ کرنے یا کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ’جو افسر ہمیں کارنر میٹنگ کی اجازت نہیں دے رہے تھے، جو ہمارا قانونی حق تھا، وہی اب تمام انتظامات کر رہے ہیں۔‘

پرامن احتجاجی جلسہ ہو گا

پی ٹی آئی رہنما شیر علی ارباب کے مطابق ان کی جماعت اتوار کو پرامن احتجاج کرے گی، جس میں بڑی تعداد میں کارکنان شریک ہوں گے اور صوبائی قائدین خطاب کریں گے۔ ’ہم دھاندلی کے خلاف پرامن احتجاج کرتے ہوئے اپنا حق مانگ رہے ہیں۔‘

اس یکسر تبدیلی سے دوچار صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے صحافی عارف حیات کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے بعد سے خیبر پختونخوا میں صورت حال مختلف ہے اور اب صوبہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے لیے محفوظ ہے، جہاں گرفتاری کا کوئی ڈر یا خطرہ نہیں ہے، اور اکثر روپوش رہنما بھی منظر عام پر آگئے ہیں۔

عارف حیات کے مطابق الیکشن مہم کے لیے جلسے اور کارنر میٹنگز کے انعقاد کے لیے پی ٹی آئی ہائیکورٹ گئی تھی لیکن پھر بھی رکاوٹیں دور نہیں ہوسکی تھیں، پولیس مسلسل تنگ کرتی رہی لیکن اب وہی پولیس محافظ بن گئی ہے۔

’ڈی سی پشاور کے خلاف پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ انھوں نے نتائج کو تبدیل کیا، تیمور جھگڑا اور دیگر امیدواروں کو ہرا گیا اور اس کے خلاف اتوار کو احتجاج ہے جس کے لیے تمام انتظامات ضلعی انتظامیہ ہی کررہی ہے۔‘

عارف حیات سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی نئی حکومت بڑے پیمانے پر افسروں کے تبادلے کرنے جا رہی ہے اور موجودہ افسروں کو اس ضمن میں سخت پریشانی لاحق ہے، انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے انتقامی کارروائی نہ کرنے کی بات سے بھی اختلاف کیا۔

’نئی صوبائی حکومت انتظامی افسروں کے خلاف یقیناً کارروائی کرے گی، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور خود بھی سخت غصہ میں ہیں، زیادہ تر افسروں کو عہدوں سے ہٹایا جائے گا اور نئی پوسٹنگ نہیں دی جائے گی، اس ضمن میں فہرست بھی تیار ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پرامن مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کریں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سیکیورٹی فورسز کو ہدایت

امریکا کی بحر اطلس میں کارروائی، وینزویلا سے منسلک 2 روسی تیل بردار جہازوں پر قبضہ

چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سیکیورٹی یونٹ قائم کیا جارہا ہے، محسن نقوی

کترینہ کیف اور وکی کوشل نے اپنے بیٹے کا نام مداحوں کے ساتھ شیئر کردیا

تجارتی خسارے میں کمی کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے، وزیراعظم کی برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کی ہدایت

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟