روس میں صدارتی الیکشن، ولادیمیر پیوٹن دوبارہ صدر بن پائیں گے؟

جمعرات 14 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس میں صدارتی االیکشن کے لیے کل سے 3 روزہ پولنگ کا آغاز ہوگا، روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے مقابلے میں اس مرتبہ 3 امیدوار میدان میں آئے ہیں، لیکن تاہم ولادیمیر پیوٹن ہی سب سے مضبوط امیدوار دکھائی دے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 71 برس کے ولادیمیر پیوٹن ہی دوبارہ 6 برس کے لیے صدر منتخب کرلیے جائیں گے۔

روسی میڈیا کے مطابق ان کے آٹھویں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل 15 مارچ کو شروع ہوگا، جو اگلے 2 روز تک جاری رہے گا۔ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے4  شخصیات نے خود کو رجسٹرڈ کرایا ہے جن میں سے دیگر 3 روسی ایوان زیریں یعنی ڈوما کے اراکین نکولائی خریطونوف، لیانید سُولوستکی اور ویلدیسلوف داونکوف ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل صدر بننے کے خواہشمند الیکسی نوالنی پراسرار موت کا شکار ہوئے اور 2 کے کاغذات مسترد کردیے گئے۔ روسی میڈیا کے مطابق روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی نوالنی جیل میں 19 سال قید کی سزا کاٹ رہے تھے اور دوران قید پراسرار طور پر ہلاک ہوگئے۔

الیکسی ناولنی روس کے سرد ترین علاقوں میں سے ایک شہر خارپ میں پولر وولف کالونی میں قید تھے، یہاں کا موسم ہمیشہ سرد رہتا ہے۔ جیل کے حکام نے بتایا ہے کہ نوالنی جیل میں چہل قدمی کرتے ہوئے بے ہوش ہوگئے تھے، طبی عملے نے موقع پر پہنچ کر ان کا معائنہ کیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

تاہم روس میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ولادیمیر پیوٹن ہی دوبارہ صدر بنیں گے، کیونکہ روسی عوام کی اکثریت ان کے اقدامات سے خوش ہے، اور 20 سال سے زائد عرصے سے لگاتار ولادی میر پیوٹن ہی روس کا اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔

صدر پیوٹن نے گزشتہ روز ایک پیغام میں کہا کہ یہ ملک میں انتہائی اہم الیکشن ہیں۔ اس کے نتائج آئندہ برسوں میں روس کی ترقی پر براہ راست نتائج مرتب کریں گے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے یہ بھی کہا کہ اگر روس کی آزادی اور ریاست کو خطرہ ہوا، تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

صدر پیوٹن نے بدھ کے روز نشر ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ امریکا ایسے اقدامات سے گریز کرے گا جس سے جوہری تنازعہ شروع ہو۔

واضح رہے کہ ولادی میرپیوٹن کو سابق سوویت لیڈر بورس یلسن نے 1999 میں نائب صدر مقرر کیا تھا۔ جس کے بعد ولادی میر پیوٹن 2000 سے 2008 تک دوبار صد کے عہدے پر فائز رہے، اور پھر 2012 تک وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا، سن 2012 میں وہ تیسری بار اور سن 2018 میں چوتھی بار صدر بنے تھے۔

یہ بھی واضح رہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن آئینی طور پر مزید 2 بار صدر بن سکتے ہیں، آئین کے مطابق ان کو 2 بار مزید صدر بننے کی اجازت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا ٹام ہالینڈ ہمیشہ کے لیے اسپائیڈر مین کو الوداع کہنے والے ہیں؟

وزیراعظم نے ورلڈ بینک کی مالیاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی

ترک اپوزیشن پارٹی کے میئر اردال بشکچی اوغلو کرپشن کے الزام میں گرفتار

پاکستان کو وار رسک انشورنس فہرست سے نکالنے کا فیصلہ، اسحاق ڈار کا خیرمقدم

لائیوآئین کا آرٹیکل 5 واضح طور پر کہتا ہے کہ وفاداری صرف ریاست ہوگی، کسی قومیت سے نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

ویڈیو

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘