اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے صحافی اسد طور کو رہا کرنے کا حکم دیدیا

ہفتہ 16 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے صحافی اسد طور کی اداروں کے خلاف مہم چلانے کے کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی ہے۔ عدالت نے 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض اسد طور کو رہا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد ہمایوں دلاور نے اداروں کے خلاف مہم چلانے کے کیس میں صحافی اسد طور کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔ اسد طور کے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جبکہ ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر سید اشتیاق حسین شاہ بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

کیس کے تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ وکیل ہادی علی چٹھہ نے سپریم کورٹ کی آبزرویشن عدالت میں جمع کروائی جس پر عدالت نے تفتیشی افسر اور اسپیشل پراسیکیوٹر ایف ائی اے سے استفسار کیا کہ کیا یہ آبزرویشن درست ہے؟

ایف ائی اے اسپیشل پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی یہ آبزرویشن درست ہے۔ ایف آئی اے نے ضمانت پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ عدالت نے اسد طور کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے انہیں 5 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟