آصف علی زرداری نے 62ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کررکھا ہے، حسین نقی

جمعرات 21 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر صحافی و سماجی کارکن حسین نقی نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد کچھ عرصہ تک پاکستان اور ہندوستان آنا جانا کوئی مشکل نہیں تھا، لوگ 1955 تک باآسانی آیا جایا کرتے تھے، لیکن اس کے بعد بارڈر پر مسائل شروع ہوئے تو آنا جانا مشکل ہوگیا۔ پھر ہم پاکستان میں رہائش پذیر ہوچکے تھے۔ پاکستان میں آکر نئے سرے سے تعلیم حاصل کی اور میڈیا کی طرف راغب ہوگیا۔ پھر ہم نے طالبعلم کے نام سے ایک اخبار شروع کیا جو کافی چلا۔

حسین نقی نے کہا کہ ایوب خان نے طالبعلموں کو بڑے فائدے دیے، جامعات میں اسٹوڈنٹس کیمپسز بنائے۔ ذوالفقار بھٹو کے دور میں مجھے سزا بھی ہوئی اور میری اخبار کو بھی بند کر دیا گیا۔ جونیجو نے صحافیوں کے لیے پالیسی میں تھوڑی نرمی کی، بعد میں جب ضیاالحق کی حکومت آئی تو پھر سختیاں شروع کردی گئیں اس دوران بھی جیل جانا پڑا۔

آج کل تو اخبارات کا ٹرینڈ ہی بدل گیا ہے، ایکسکلوسیو خبروں کے بجائے صرف بڑے لوگوں کے بیانات ہی ہوتے ہیں، لوگوں نے میڈیا ہاؤسز اس لیے بنا رکھے ہیں کہ وہ اپنے باقی بزنسز اور ٹیکس بچا رہے ہیں۔ حسین نقی نے مزید کیا کہا دیکھیے اس انٹرویو میں

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، محفوظ اسکول لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کیوں اہم ہیں؟

اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تو نقصان کی ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی، طارق فضل چوہدری

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے والد انتقال کرگئے، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

انتشار کی سیاست کو پذیرائی نہ ملی تو مذہبی جذبات کا سہارا، سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے

صدر مملکت نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کو نشان امتیاز ملٹری عطا کردیا

ویڈیو

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

اداکاری جمال شاہ کی وجہ سے چھوڑی، میرے پاس تشدد کے ثبوت موجود ہیں، فریال گوہر

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘