کمبوڈیا نے میوزیکل ہارن پر پابندی کیوں لگائی؟

جمعرات 21 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

45 سال تک آہنی ہاتھوں سے حکومت کرنے کے بعد، کمبوڈیا کی حکمراں جماعت کے رہنماؤں کے پاس ایسے اعمال کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر پابندی لگا دی گئی ہے اور سیاسی مخالفین کو جیل بھیج دیا گیا  یا ملک سے فرار ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔

اب کمبوڈیا کے دیرینہ ’مضبوط آدمی‘ اور سابق حکمران ہن سین کے بیٹے، ملک کے نئے مقرر کردہ وزیر اعظم ہن مانیٹ نے سماجی بدامنی کے ایک نئے ذریعہ میوزیکل ٹرک ہارنز کو نشانہ بنایا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں، 46 سالہ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ بڑی گاڑیوں کی موسیقی کی دھڑکنوں پر اسٹریٹ ڈانس سے پریشان تھے۔

ہن مانیٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر حالیہ ویڈیوز نے انہیں الرٹ کیا جس میں سڑک کے کنارے گھومنے والے نوجوان گزرتے ہوئے ٹرک کے ہارن پر بجتی ہوئی موسیقی کی دھنوں پر رقص کررہے تھے، انہوں نے کہا کہ اس ’حرکت‘ کو بند ہونا چاہیے۔

جس کے بعد اب تقریباً 17 ملین آبادی والے اس ملک میں حکام کو کارروائی کرنے اور گاڑیوں سے اس نوعیت کے میوزیکل ہارن فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔

میوزیکل ہارن کے ساتھ ہن مانیٹ کا مسئلہ کیا ہے؟

بحیثیت وزیر اعظم 7 ماہ کے بعد، ہن مانیٹ کا گاڑیوں کے میوزیکل ہارن پر پابندی ان کے مزید غیر معمولی پالیسی اقدامات میں سے ایک ہو سکتی ہے، جو انہوں نے اپنے والد کے 38 سالہ دور حکمرانی کے پس منظر میں کامیاب ہونے کے بعد اختیار کی ہیں۔

مغربی تعلیم یافتہ اور کمبوڈیا کے نوجوان لیڈروں کی ایک نئی اصلاح پر مبنی نسل کے ہراول دستہ میں شامل سمجھے جانیوالے ہن مانیٹ کے اقتدار کے ابتدائی مہینوں میں انہیں اپنے والد کے طے کردہ راستے سے زیادہ انحراف کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

گاڑیوں کے میوزیکل ہارن اور اس پر مقامی لوگوں کے بے ساختہ اسٹریٹ ڈانس نے اب نئے وزیر اعظم کی پوری توجہ حاصل کر لی ہے، کیونکہ وزیر اعظم ہن مانیٹ کے مطابق یہ خاص طور پر سڑک پر ٹریفک کی روانی سے متعلق نظم وضبط کو متاثر کرتا ہے، جو ڈرائیوروں اور رقاصوں کے لیے خطرہ ہے۔

کمبوڈیا کی وزارت برائے تعمیرات عامہ اور نقل و حمل اور تمام سطحوں پر پولیس کے ساتھ ساتھ مقامی حکام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ معائنہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام گاڑیوں سے میوزیکل ہارن ہٹا دیے جائیں اور اس کی جگہ معیاری اور موسیقی سےمبرا ہارن لگائیں۔

گزشتہ روز میڈیا رپورٹس سامنے آئیں کہ مقامی حکام نے گاڑیوں کے سامان کی دکانوں میں ایسے ہارن کی فروخت پر پابندی کا حکم دیا ہے، وزیر اعظم نے والدین کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے بچوں نے اسٹریٹ ڈانس بند کردیا ہے۔

کمبوڈیا کے حکومت نواز اخبار خمیر ٹائمز کے مطابق ٹرکوں کے ہارن کی آواز پر رقص کرنے کی وجہ سے ’بچوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان‘ کے تناظر میں وزیر اعظم اس کارروائی کے لیے متحرک ہوئے۔

اگرچہ سڑک کے کنارے پر رقص کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، لیکن کمبوڈیا کے نوجوان اسے تفریح کے طور پر لیتے ہیں۔

فیس بک پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں کمبوڈیا کی ایک نوجوان خاتون ایک بڑے ٹرانسپورٹ ٹرک کی آمد کی منتظر ہے، جیسے ہی ٹرک قریب آتا ہے، ڈرائیور ہارن بجا کر ٹیکنو ڈانس بیٹ چھیڑتا ہے، جس پر خاتون ہنستے ہوئے سڑک کے کنارے رقص کرنے لگتی ہے۔

کمبوڈین ثقافتی جنگیں؟

الجزیرہ کے مطابق کمبوڈیا کے سیاسی مسائل پر ایک مبصر نے نوٹ کیا کہ میوزیکل ہارن اور اسٹریٹ ڈانس پر پابندی ’پالیسی سے زیادہ پوزیشننگ‘ دکھائی دیتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ نئے وزیر اعظم کی انتظامیہ ’ثقافت کی جنگ‘ کے مسائل کے بارے میں شرمندہ نہیں ہے۔

الجزیرہ سے گفتگو میں ایک ٹیکسی ڈرائیور نے سوال اٹھایا کہ نئے وزیر اعظم اس ’معمولی‘ معاملے پر کیوں پریشان ہو رہے تھے۔ ’وزیر اعظم کا کام وزیر اعظم بننا ہے، انہوں نے اس جیسے چھوٹے معاملہ میں کیوں دراندازی کی۔‘ پھر بھی، ایسا کرتے ہوئے، ہن مانیٹ صرف اپنے والد کے نقش قدم پر کارفرما ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فرانس: طلبا نے حکومتی تجاویز مسترد کردیں، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

ایپل کے نئے فولڈ ایبل آئی فون کی اسکرین ٹوٹنے لگی، کمپنی کا متبادل فون دینے کا اعلان

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو جبر سے نہیں دبایا جا سکتا، اسحاق ڈار

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

صدر آصف زرداری کا اقوامِ متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں