وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ عمران خان کو طبی سہولیات اور قیدی کے حقوق ملنے چاہییں۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر کسی قیدی کے بیمار ہونے کی طبی رپورٹ سامنے آتی ہے تو اسے اس کے مکمل حقوق ملنے چاہییں۔
انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست یہ نہیں کہ کسی کی بیماری کا مذاق اڑایا جائے یا صحت کے معاملے پر سیاست کی جائے۔ ماضی میں کلثوم نواز کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا، تاہم مسلم لیگ (ن) اس طرز سیاست کی حمایت نہیں کرتی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف عدالتی، سیاسی عمل سے جوڑنا درست نہیں : رانا ثنااللہ
انہوں نے کہاکہ اگر طبی رپورٹ میں عمران خان کے لیے اضطراب یا دیگر طبی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے اور ڈاکٹر نے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی سفارش کی ہے تو ان سفارشات پر عمل ہونا چاہیے۔
عمران خان کو دوبارہ سیاسی کردار ملنے کا امکان مسترد
رانا احسان افضل نے عمران خان کی سیاسی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خیال میں عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ خود ان کی ذات اور ان کا طرز سیاست ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیاکہ عمران خان اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ بیٹھ کر کام کرنے کے لیے تیار نہیں رہے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں، اختلافات کے باوجود ملکی مفاد میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے معاملے پر بھی عمران خان نے ایسے بیانیے اختیار کیے جنہیں وہ افغانستان اور طالبان کے حوالے سے خارجہ پالیسی کے مؤقف کے قریب سمجھتے ہیں۔
انہوں نے سائفر کے معاملے پر عمران خان کے طرز عمل کو بھی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
رانا احسان افضل نے عمران خان کو پاکستان کی تاریخ کے انتہائی غیر ذمہ دار رہنماؤں میں شمار کرتے ہوئے ان کی خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کی۔
وزرا کو ہٹانے کی خبریں افواہیں ہیں
کابینہ میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا احسان افضل نے کہاکہ یہ وزیراعظم کا اختیار ہے کہ وہ کس کو کابینہ میں رکھیں اور کس کو ہٹائیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ قریباً ایک سال وزیراعظم کے ڈلیوری یونٹ کی سربراہی کر چکے ہیں اور اس دوران انہوں نے دیکھا کہ وزیراعظم فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہیں۔
ان کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں کسی معاملے پر فیصلہ ہوجانے کے بعد وزیراعظم اس پر سختی سے عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہیں اور قریباً ہر سال وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی عمل کی بنیاد پر وزارتوں میں ردوبدل کی باتیں سامنے آتی ہیں۔
انہوں نے کابینہ میں بعض وزرا کے جانے کی خبروں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک وزیراعظم خود کسی فیصلے کا اعلان نہ کریں، کسی نام کے بارے میں حتمی بات نہیں کی جاسکتی۔
کابینہ میں صوبوں کی تشکیل پر کوئی باضابطہ بحث نہیں ہوئی
رانا احسان افضل نے واضح کیاکہ بعض وزرا کی جانب سے موجودہ نظام کے بارے میں سخت بیانات میڈیا میں ضرور آئے، تاہم کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے کوئی باضابطہ بحث نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق کابینہ میں ایجنڈے کے مطابق مختلف وزارتیں اپنے معاملات پیش کرتی ہیں اور صوبوں یا نئے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے ابھی کوئی باقاعدہ حکومتی کمیٹی یا عملی کام شروع ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
انہوں نے کہاکہ اتحادی حکومت میں مختلف سیاسی جماعتیں شامل ہیں، اس لیے علیم خان اور دیگر رہنماؤں کی صوبوں کی تشکیل یا حکمرانی کے ڈھانچے کے حوالے سے اپنی آرا ہوسکتی ہیں، تاہم اسے حکومت کا باضابطہ فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، اب معاشی استحکام حاصل ہوچکا
انہوں نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ حکومت معیشت کو تیز رفتار مگر خسارے پر مبنی نمو کے بجائے پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے، پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کرلیا ہے اور حکومت کی مدت کے اختتام تک 5.5 سے 6 فیصد شرح نمو حاصل کرنے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر یہ شرح نمو بیرونی کھاتے کے خسارے کے بغیر حاصل ہوگئی تو یہ پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک اہم کامیابی ہوگی، جس سے عوام کی قوتِ خرید بہتر اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
معیشت پر بات کرتے ہوئے رانا احسان افضل نے کہاکہ حکومت نے معیشت کو اس وقت سنبھالا جب پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا۔ ان کے مطابق آج ملکی زرمبادلہ کے ذخائر قریباً 17 سے 18 ارب ڈالر ہیں، جبکہ کمرشل ذخائر شامل کیے جائیں تو یہ حجم 22 ارب ڈالر سے زیادہ بنتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ روپے کی قدر مسلسل گر رہی تھی لیکن اب شرحِ تبادلہ مستحکم ہوئی ہے، جبکہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بھی شدید گراؤٹ کے بعد بہتر ہوئی ہے۔ ان کے بقول حکومت نے معاشی استحکام حاصل کرلیا ہے اور اب اصل چیلنج پائیدار ترقی کی طرف بڑھنا ہے۔
6 فیصد نمو کے ساتھ خسارہ، اس لیے محتاط پالیسی ضروری ہے
رانا احسان افضل نے کہاکہ پاکستان کا بنیادی معاشی مسئلہ یہ ہے کہ جب ملکی معیشت قریباً 6 فیصد کی شرح سے بڑھتی ہے تو بیرونی کھاتے کا خسارہ پیدا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آخری مرتبہ قریباً 6 فیصد شرح نمو تحریک انصاف کے دور میں ہوئی تھی، تاہم ان کے مطابق اس وقت قریباً 18 ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑا گیا، جس نے بعد کے برسوں میں معیشت کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کو مکمل کیا، مگر موجودہ حالات میں معیشت کو خسارے کے بغیر 6 فیصد کی رفتار سے بڑھانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہاکہ حالیہ 3.7 فیصد شرح نمو اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے ساتھ ڈالر کا بڑا خسارہ پیدا نہیں ہوا، اس لیے حکومت پائیدار شرح نمو کی طرف بڑھ رہی ہے۔
عوام کی قوتِ خرید نہ بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں؟
رانا احسان افضل نے اعتراف کیا کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مجموعی طور پر لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ نہیں ہوسکا۔
ان کے مطابق پاکستان کو بیک وقت افغانستان کی سرحد بند ہونے، دہشتگردی اور سیکیورٹی کے چیلنجز اور بین الاقوامی جنگوں جیسے مسائل کا سامنا ہے، اس کے باوجود حکومت نے استحکام اور خسارے کے بغیر شرح نمو حاصل کی۔
انہوں نے روزگار کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی روزگار منڈی میں ہر سال قریباً 20 سے 24 لاکھ افراد داخل ہوتے ہیں۔ ایک فیصد مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو سے قریباً 4 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔ 3.7 فیصد شرح نمو کے نتیجے میں قریباً 14.5 سے 15 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں، جبکہ روزگار کی منڈی میں آنے والے افراد کی تعداد 24 لاکھ تک ہے۔
ان کے مطابق اس خلا کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کو کم از کم 5.5 سے 6 فیصد شرح نمو درکار ہے۔
افغانستان کی سرحد اور سیکیورٹی صورتحال نے معیشت کو متاثر کیا
رانا احسان افضل نے کہاکہ افغانستان کی سرحد کی بندش سے پاکستان کی برآمدات اور ملکی معیشت متاثر ہوئی ہے اور قریباً 2 ارب ڈالر کا اثر پڑا ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر جانی نقصانات ہورہے ہیں۔
ان کے مطابق حکومت ان حالات کے باوجود معیشت کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
معاشی ذمہ داری صرف وفاق کی نہیں، صوبوں کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے
رانا احسان افضل نے معاشی کارکردگی میں صوبوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہاکہ دنیا کے کئی ممالک میں معاشی ترقی کی ذمہ داری بڑی حد تک صوبائی اور مقامی حکومتوں کی ہوتی ہے۔
انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ وہاں کسی شہر کے میئر سے ملاقات کی جائے تو وہ اپنے شہر کی آبادی، مجموعی ملکی پیداوار اور برآمدات کے اعداد و شمار بتاتا ہے۔ کاؤنٹی، شہر اور صوبے کی سطح پر ہر انتظامی سربراہ اپنی معیشت اور برآمدات کے لیے جوابدہ ہوتا ہے۔
ان کے مطابق اگر کسی علاقے کی معیشت ایک ارب ڈالر ہو تو اگلے سال اسے 1.1 ارب ڈالر تک لے جانا متعلقہ انتظامیہ کی کارکردگی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں ڈپٹی کمشنر، کمشنر یا چیف سیکریٹری سے ان کے علاقے کی مجموعی پیداوار کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اسے اپنی براہِ راست ذمہ داری نہیں سمجھتے۔
بااختیار بلدیاتی نظام ضروری ہے
انہوں نے کہا کہ وہ لازمی طور پر چھوٹے صوبوں کے حامی نہیں بلکہ عمودی اختیارات کی منتقلی کے حامی ہیں، جس میں اختیارات اوپر سے نیچے تک منتقل کیے جائیں۔
ان کے مطابق اگر موجودہ 4 صوبوں کو 16 یا 20 صوبوں میں تقسیم بھی کردیا جائے لیکن معاشی ذمہ داری ان انتظامی اکائیوں کو نہ دی جائے تو کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹی انتظامی اکائیوں کو اپنے اخراجات اور آمدنی کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے۔ ان کے مطابق بااختیار بلدیاتی نظام بھی ضروری ہے، مگر چھوٹے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام دونوں کو ایک نہیں سمجھنا چاہیے۔
رانا احسان افضل نے کہاکہ وہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حامی ہیں، تاہم ایسا بلدیاتی نظام ہونا چاہیے جو مالی طور پر خودمختار، آزاد اور مستقل ہو اور مقامی معیشت کے لیے براہِ راست جواب دہ ہو۔
انہوں نے سندھ اور کراچی کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ وہاں میئر اور بلدیاتی نظام موجود ہونے کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو مالی خودمختاری اور حقیقی اختیار نہیں دیتیں۔
ان کے مطابق سیاسی نظام کی مجموعی ناکامی یہ ہے کہ ملک میں تیسری سطح کی حکومت کو مؤثر اور بااختیار نہیں بنایا جاسکا۔
پاکستان کو مکمل طور پر ناکام ریاست کہنا درست نہیں
گورننس کے نظام پر گفتگو کرتے ہوئے رانا احسان افضل نے کہاکہ پاکستان کا نظام مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا، تاہم اس میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان عالمی سطح پر ایک جوہری ریاست ہے، سفارتی سطح پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور ملکی مجموعی پیداوار قریباً 400 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر ناکام نظام قرار دینا درست نہیں۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیاکہ حکمرانی کے ڈھانچے میں خامیاں موجود ہیں، خصوصاً اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور اضلاع و شہروں کو معاشی ایجنٹ بنانے کے حوالے سے اصلاحات کی ضرورت ہے۔
حکومت 2029 تک قائم رہےگی
حکومت کے مستقبل کے بارے میں رانا احسان افضل نے کہاکہ حکومت 2029 تک موجود رہے گی اور ان کے خیال میں اس عرصے کے دوران معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے آغاز ہی سے یہ پیش گوئیاں کی جارہی تھیں کہ نظام نہیں چلے گا، تاہم اب معیشت میں بہتری آئی ہے اور عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کے ساتھ معاشی اصلاحات کو تسلیم کررہے ہیں۔
عوام کو مصنوعی ریلیف کے بجائے پائیدار معاشی بہتری دینا چاہتے ہیں
آئندہ 2 سے ڈھائی برس میں عوام کو ملنے والے ریلیف کے بارے میں رانا احسان افضل نے کہاکہ حکومت مصنوعی ریلیف دینے کے بجائے پائیدار معاشی بنیادیں مضبوط کررہی ہے۔
ان کے مطابق وقتی ریلیف دینے کے نتیجے میں بجلی کے شعبے اور قرضوں میں بڑے خسارے جمع ہوجاتے ہیں، جنہیں بعد میں عوام کو سود سمیت واپس کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے ایسا مصنوعی ریلیف دینے سے گریز کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس کا اندازہ حکومتی خساروں اور بنیادی بجٹ کے سرپلس سے لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 2 دہائیوں میں بہت کم حکومتیں بنیادی بجٹ میں سرپلس حاصل کرسکی ہیں، جبکہ موجودہ حکومت ذمہ دارانہ مالیاتی پالیسی پر عمل کررہی ہے۔
رانا احسان افضل نے کہاکہ عوام کو بنیادی طور پر قوتِ خرید میں بہتری اور روزگار کے مواقع درکار ہیں۔ جو نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہورہے ہیں انہیں ملازمتیں ملنی چاہییں۔
انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اپنی مدت کے اختتام تک قریباً 6 فیصد شرح نمو حاصل کرنے اور ساتھ ہی ڈالر کا خسارہ پیدا نہ کرنے میں کامیاب ہوگئی تو یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ کامیابی ہوگی۔
ان کے مطابق ایسی صورت میں عوام کی قوتِ خرید میں بہتری آئے گی اور روزگار کی منڈی میں آنے والے نوجوانوں کو جذب کرنے کی صلاحیت بڑھے گی۔
انہوں نے کہاکہ وہ کھوکھلے اور بڑے دعوے کرنے کے بجائے قابلِ عمل اہداف کی بات کررہے ہیں۔ ان کے بقول اگر حکومت معیشت کو مذکورہ سمت میں لے جانے اور 6 فیصد پائیدار شرح نمو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اسے حکومت کی کامیابی سمجھا جائے گا۔
بجلی کی طلب بڑھے گی تو بجلی گھروں کی صلاحیت کی ادائیگی کا بوجھ کم ہوگا
آزاد بجلی گھروں کے معاہدوں کے حوالے سے رانا احسان افضل نے کہاکہ پاکستان کی صنعت اور معیشت کا پہیہ تیز ہوگا تو بجلی کی کھپت بڑھے گی، جس سے بجلی گھروں کو دی جانے والی صلاحیت کی ادائیگیوں کا بوجھ زیادہ بجلی کی کھپت میں تقسیم ہوجائےگا اور اس کی شدت کم محسوس ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ بجلی کے موجودہ معاہدے محض ایک حکم سے ختم نہیں کیے جاسکتے۔ ان کے مطابق پاکستان میں موجود بڑے بجلی منصوبوں کا ایک اہم حصہ پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق ہے اور ایسا ماڈل صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔
رانا احسان افضل نے مجموعی طور پر مؤقف اختیار کیاکہ حکومت فوری اور مصنوعی اقدامات کے بجائے معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، روزگار، برآمدات، نجکاری، صنعتی سرگرمیوں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ذریعے طویل مدتی بنیادوں پر پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
مشرف دور میں دباؤ کے باوجود مسلم لیگ (ن) نہیں چھوڑی
رانا احسان افضل نے بتایا کہ ان کے والد نے سیاست کا آغاز پاکستان مسلم لیگ (ن) سے کیا، جبکہ ان کی والدہ بھی اس سے قبل مسلم لیگ (ن) سے وابستہ رہی تھیں۔ ان کے والد 1994 میں باقاعدہ طور پر پارٹی کے رکن بنے اور 1997 میں پہلی مرتبہ فیصل آباد سے انتخابات میں حصہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے والد بعد میں رکن قومی اسمبلی رہے اور مشرف دور میں وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بھی رہے۔ رانا احسان افضل کے مطابق وہ بچپن ہی سے اپنے والد کی سیاسی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھتے رہے۔ 1997 کے انتخابات میں وہ کیمرہ لے کر اپنے والد کی انتخابی مہم کی کوریج کرتے تھے۔
رانا احسان افضل نے بتایا کہ ان کے والد نے سیاست سے قبل قریباً 6 سال فوج میں خدمات انجام دیں، پھر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر نجی شعبے میں کام کیا۔ بعد ازاں وہ سعودی عرب گئے جہاں قریباً 11 برس مقیم رہے اور کاروبار کیا۔
رانا احسان افضل کے مطابق ان کے والد نے قریباً 25 سے 30 سال مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیاست کی اور 2019 میں وفات تک جماعت نہیں بدلی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کا پس منظر فوج سے وابستہ رہا ہے اور خاندان میں متعدد اعلیٰ فوجی افسران، لیفٹیننٹ جنرلز سمیت اہم عہدوں پر فائز شخصیات موجود رہی ہیں۔ اس کے باوجود مشرف دور میں ان کے والد پر مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، مگر انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آمر کا ساتھ نہیں دیں گے اور میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہے۔
رانا احسان افضل نے دعویٰ کیا کہ 2018 میں ان کے خاندان کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا اور فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی، تاہم ان کے والد نے اسی وقت انکار کردیا۔
ان کے مطابق والد کا سیاسی فلسفہ یہ تھا کہ اگر کسی جماعت سے اختلاف بھی ہو تو جماعت چھوڑنے کے بجائے اس کے اندر رہ کر چیزوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے والد کے نزدیک مسلم لیگ (ن) دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں بہتر جماعت تھی، اسی لیے انہوں نے سوچ سمجھ کر اسے منتخب کیا اور طویل عرصے تک اس کے ساتھ جدوجہد کی۔
نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سے بچپن کی سیاسی یادیں
رانا احسان افضل نے بتایا کہ ان کی مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے بچپن میں براہِ راست ون ٹو ون ملاقاتیں نہیں ہوئیں، تاہم جب نواز شریف فیصل آباد جلسے کے لیے آتے تو وہ بچپن میں ہر جلسے میں شریک ہوتے تھے۔
ان کے مطابق شہباز شریف جب فیصل آباد آتے تو ریلیاں نکالی جاتیں اور ملاقاتیں بھی ہوتیں۔ ان کی ابتدائی سیاسی یادوں میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی توجہ ترقیاتی کاموں پر مرکوز ہونا شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 1996 میں شہباز شریف فیصل آباد آئے جبکہ 1997 میں بھی ان کے والد کے ایک اسپتال کی افتتاحی تقریب میں شہباز شریف نے شرکت کی۔ ان کے بقول شہباز شریف ہمیشہ محنت اور کام پر زور دیتے تھے اور نتائج چاہتے تھے۔
مسلم لیگ (ن) میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کمی کے تاثر کی تردید
رانا احسان افضل نے مسلم لیگ (ن) میں تعلیم یافتہ افراد کی کمی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کابینہ میں نوجوانوں کو آگے لایا گیا ہے اور ان میں بڑی تعداد بیرون ملک تعلیم یافتہ افراد کی ہے، جبکہ پاکستان سے بھی کئی ارکان نے اچھی تعلیم حاصل کی ہے۔
مزید پڑھیں: نئے صوبے بنیں یا نہیں؟ سوشل میڈیا پر صارفین کی آرا منقسم
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں بھی نوجوان موجود ہیں، اگرچہ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں۔ ان کے مطابق تعلیم یافتہ شخصیات کی فہرست احسن اقبال سے شروع کی جاسکتی ہے، جو وارٹن سے فارغ التحصیل ہیں، جبکہ علی پرویز ملک، اویس لغاری، مصدق ملک، بلال کیانی، شزا فاطمہ اور دیگر ارکان بھی اعلیٰ تعلیمی پس منظر رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیم میں کام نہ کرنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ وزیراعظم روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی چاہتے ہیں اور ان کی پالیسی یہ ہے کہ جو شخص کارکردگی نہیں دکھاتا وہ ٹیم میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتا۔













