محفوظ ڈرائیونگ پر وی لاگز بنانے والے ٹریفک انسپیکٹر سوشل میڈیا پر وائرل

ہفتہ 13 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وی لاگز کے ذریعے سے عوام کو محفوظ سفر کی رہنمائی فراہم کرنے والے ٹریفک انسپیکٹر ریاض الرحمان میمن نے جب پہلی پہلی ویڈیوز اپلوڈ کیں تو ان پر لاکھوں ویوز آئے، وہ حیران ہوئے اور مزید شوق سے وی لاگز بنانے لگے، اب وہ روزانہ 18 گھنٹے اسی مہم میں لگے رہتے ہیں۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی گاڑیوں سے متعلق جاننے کا شوق تھا۔ طالب علمی کے زمانے میں سوشل میڈیا تو زیادہ نہیں تھا مگر کسی نہ کسی طرح وہ اپنا شوق پورا کرلیتے تھے۔ حسن اتفاق یہ ہوا کہ انہیں موٹر وے پولیس میں ملازمت مل گئی جس کے بعد انہیں مزید سیکھنے اور بہت سے معاملات کو دیکھنے کا موقع ملا۔

دورانِ ملازمت انہیں غیر محفوظ ڈرائیونگ کی وجہ سے ہونے والے حادثات کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جس سے وہ بہت دکھی ہوتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے روڈ سیفٹی کے معاملے پر ڈرائیورز کی رہنمائی کرنے کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا حصہ سمجھ لیا اور موٹروے پولیس کی جانب سے مختلف اداروں میں لیکچرز بھی دیتے رہے۔

ان دنوں ریاض میمن سندھ کے علاقے گھوٹکی میں تعینات ہیں، انہوں نے بتایا کہ غیر محفوظ ڈرائیونگ کے خلاف آگاہی پھیلانے کے لیے جب انہوں نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر کچھ ویڈیوز اپلوڈ کیں تو انہیں بہت اچھا رسپانس ملا۔ اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور انہوں نے ڈیوٹی اوقات کے بعد گاڑی اور ڈرائیونگ سے متعلق مشوروں پر مشتمل وی لاگز بنانے شروع کیے۔

اس وقت ریاض کے فیس بک، انسٹا گرام، اور یو ٹیوب پر اچھے خاصے فالورز ہیں اور وہ سینکڑوں ویڈیوز بنا چکے ہیں۔

ریاض میمن نے بتایا کہ وہ اپنی ملازمت کی وجہ سے اکیلے ہی رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ڈیوٹی کے بعد خاصا وقت مل جاتا ہے جسے وہ مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے اصلاحی ویڈیوز بناتے ہیں۔

ریاض کے مطابق ان کا مقصد اس کام سے پیسے کمانا یا شہرت حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ عوام کی زیادہ سے زیادہ رہنمائی کر سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں ریاض میمن نے بتایا کہ بدقسمتی سے اکثریت ٹریفک کے بنیادی قوانین سے ہی ناواقف ہے اور بیشتر لوگ قوانین پر عمل درآمد اپنی ذمہ داری سمجھ کر نہیں بلکہ موٹرویز پر چالان کے ڈر سے کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قومی شاہراہ پر صورتحال خاصی ابتر ہے، موٹر سائیکل سواروں میں ہیلمیٹ استعمال کرنے کا رجحان بہت کم ہے جبکہ گاڑیوں میں سیٹ بلیٹ کا استعمال بھی ذمہ داری سے نہیں کیا جاتا۔

وہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ اچھی گاڑیوں میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر گاڑیوں میں لگے الارم کو بند کرنے کے لیے  لوگ اس کے جگاڑی لاک لگا لیتے ہیں مگر سیٹ بیلٹ کا استعمال نہہں کرتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موجودہ نظام کہیں نہیں جا رہا، بطور وزیراعظم شہباز شریف کا ملک میں کوئی نعم البدل نہیں، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

صدر مملکت آصف زرداری سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات

وزیر خارجہ اسحاق ڈار لندن پہنچ گئے، برطانوی وزیر خارجہ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں متوقع

جاپانی کورٹس میں پاکستانی شاہینوں کا راج، 37 ویں جونیئر اوپن سکواش میں 2 گولڈ میڈلز پاکستان کے نام

کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ پاکستان میں، 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان

ویڈیو

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟