ملک میں گندم کی قیمت میں اچانک بڑی کمی کیوں؟

جمعہ 19 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں اچانک گندم کی قیمتوں میں بڑی کمی ہوئی ہے۔ کچھ عرصہ قبل فی من گندم کی قیمت 5400 روپے فی من سے بھی زیادہ تھی، لیکن اب فی من گندم کا ہول سیل ریٹ کم ہو کر ملک میں 3600 سے لے کر 3900 روپے تک ہے۔ گندم کی قیمت میں کمی کی ایک بڑی وجہ نگراں حکومت کی جانب سے گندم کی امپورٹ ہے۔ جو پاکستان پہنچ چکی ہے جبکہ دوسری وجہ ملک میں رواں برس گندم کی بمپر فصل ہے۔

لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ برس بھی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گندم کی فصل کو بمپر فصل قرار دیا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں گندم کی قلت کی وجہ سے گندم اور آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ تو کیا اس بار بھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے؟

قیمت میں کمی کی ایک وجہ گندم کی امپورٹ ہے، مل مالک احمد اعجاز

وی آئی پی فلور مل کے مالک احمد اعجاز نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں گندم کی قیمت میں کمی کی ایک وجہ نگراں حکومت کی جانب سے گندم کی امپورٹ ہے۔

انہوں نے کہاکہ رواں برس پنجاب کی گندم کو بارشوں کی وجہ سے نقصان پہنچا، لیکن اس کے باوجود اچھی فصل ہوئی۔ جس کی وجہ سے حکومت نے اس بار 5 یا 6 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کا کہا ہے کیونکہ گزشتہ برس کی گندم بھی اب تک حکومت کے پاس پڑی ہے۔ ورنہ حکومت ہر سال 40 لاکھ ٹن کے قریب گندم خریدتی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ان سب وجوہات کی وجہ سے گندم کی قیمت بہت کم ہوچکی ہے اور حکومت رواں برس کسانوں اور کاشتکاروں سے 3900 روپے فی من گندم خریدے گی جبکہ آج مارکیٹ میں ہمیں 3650 روپے میں فی من گندم مل رہی تھی۔ جبکہ سندھ کی گندم کا ریٹ کرایہ زیادہ ہونے کی وجہ سے 100 روپے زیادہ ہے۔

رواں برس گندم کی قلت نہیں ہوگی

رواں برس گندم کی قیمت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس سال گندم کی قلت نہیں ہوگی، جس کی وجہ سے گندم کے ریٹ نہیں بڑھیں گے۔ ’گزشتہ برس بھی گندم کی فصل کو بمپر فصل کہا گیا تھا لیکن ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے گندم یوکرائن سے امپورٹ کرنا پڑی تھی جس کے باعث فی من گندم کا ریٹ 5400 روپے تک چلا گیا تھا اور 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800 روپے تک تھی‘۔

انہوں نے کہاکہ اس بار 20 کلو آٹے کے تھیلے کہ قیمت 2200 روپے تک ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس بار گزشتہ سال کی طرح گندم کا ذخیرہ نہیں ہونے دیا جائےگا۔

واضح رہے کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں گندم کی قیمت میں اضافے کی وجہ مہنگی گندم امپورٹ کرنا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2017 سے 2022 تک سرکاری اداروں کی جانب سے مہنگی گندم درآمد کی گئی۔ سرکاری محکموں ٹی سی پی اور پاسکو کی طرف سے گندم کی مہنگی امپورٹ کی وجہ سے قومی خزانے کو 31.32 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اور یہی وجہ ہے کہ مہنگی گندم کی امپورٹ سے پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور عام صارف کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری مہم: صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسپتال پر حملے کا دعویٰ جھوٹ، افغانستان پوزیشن واضح کرے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے ساتھ، عطا تاڑ

حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کو غیر ملکی سرمایہ کاروں تک توسیع دے دی

جہاں جہاں اور جس چیز سے ملک کو خطرہ ہے اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

دہشتگردوں کا نیا پروپیگنڈا، ٹرمپ عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے

کسی بھی مسئلے پر زیادہ سوچنا پیچیدہ مسئلہ ضرور، لیکن اس کا آسان حل کیا ہے؟

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا