وزیراعلیٰ کے اعتماد کے ووٹ کا معاملہ، وزیراعظم نے کمیٹی بنا دی

اتوار 8 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے اعتماد کے ووٹ کے معاملے پر اپنی جماعت اور پیپلزپارٹی کے رکن پر مشتمل کمیٹی بنا دی۔

شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے سینئیر رہنماؤں پرمشتمل کمیٹی بنادی جس میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، سعد رفیق، رانا ثنا اللہ، عطا تارڑ اور پیپلز پارٹی سے حسن مرتضیٰ شامل ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی پنجاب میں اعتماد کے ووٹ سے متعلق متحرک ہو گی، کمیٹی کا مقصد وزیراعلیٰ کے اعتماد کے ووٹ لینے کے دن تمام قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے۔

اجلاس میں شرکا نے گفتگو کی کہ پچھلی بار اسپیکرپنجاب اسمبلی اور وزیر اعلیٰ کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی، اس بارپرویزالٰہی اورپی ٹی آئی کوکسی صورت ایوان کاماحول خراب نہیں کرنے دیں گے، ن لیگ کےارکان صوبائی اسمبلی بھی بھرپور دفاع کریں گے۔

ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ میں 11 جنوری کو قانونی ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے قبل علی امین گنڈاپور بیمار پڑ گئے، ڈاکٹروں کا مکمل آرام کا مشورہ

وزیراعظم شہباز شریف کی بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن امداد یقینی بنانے کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے 97 ارب روپے کے شہری منصوبے میں 32 ارب کی مبینہ بے ضابطگیاں، نیب تحقیقات تیز

آئندہ ایک ہفتے کے دوران 4 لانگ مارچ :  جڑواں شہروں کی سیکیورٹی سخت، تعلیمی ادارے و مارکٹیں بند رکھنے کا فیصلہ

بھارت میں پاکستان کا خوف برقرار، کٹھوعہ میں ٹرک ڈرائیور مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار

ویڈیو

پاکستانی قوم سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے، شرکا تحفظ حرمین شریفین کانفرنس

’میری بیٹی زندہ اور گھر میں موجود ہے‘، پمز آتشزدگی میں بچ جانے والی نومولود کے والد نے انتقال کی تردید کردی

ہنر سیکھنے کا سفر، بلوچستان کی خواتین مفت بیوٹیشن کورس کے لیے اسلام آباد پہنچ گئیں

کالم / تجزیہ

قاتل لکھاری

سیاست عوام کے لیے کیوں نہیں؟

آپ کا سب سے بڑا مخالف آپ خود ہیں