امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین سے حاصل ہونے والے نئے مشاہدات نے نظامِ شمسی کے بیرونی سیارے نیپچون کے گرد اربوں سال قبل پیش آنے والے ایک بڑے تباہ کن واقعے کے شواہد فراہم کردیے ہیں۔
سائنسدانوں نے نیپچون کے 3 اندرونی چھوٹے چاندوں پروٹیئس، لاریسا اور گیلیٹیا کے ساتھ ساتھ اس کے گرد موجود گرد آلود حلقوں کا جائزہ لیا، تحقیق کے دوران ایسی مٹی نما معدنیات دریافت ہوئیں جو عام طور پر کسی بڑے برفیلے جسم کے اندرونی حصوں میں بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پلوٹو سے آگے پراسرار دنیا، سورج سے 6 ارب کلومیٹر دور یہ برفانی بستی کیسی ہوگی؟
تحقیق کی سربراہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو سے وابستہ سیاروی سائنسدان رائلی ڈیوس کے مطابق یہ میگنیشیم سے بھرپور معدنیات اس وقت بنتی ہیں جب چٹانیں طویل عرصے تک مائع پانی کے ساتھ رابطے میں رہیں، جبکہ نیپچون کے یہ چھوٹے اور انتہائی سرد چاند اس عمل کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معدنیات کسی بہت بڑے اور قدیم برفیلے جسم کے اندرونی حصے سے آئی ہیں، جو ماضی میں کسی شدید تصادم کے نتیجے میں تباہ ہوا تھا۔ بعد ازاں اس کے ملبے سے نیپچون کے موجودہ اندرونی چاند اور حلقے دوبارہ وجود میں آئے۔
محققین کے مطابق اس تباہی کا سب سے ممکنہ سبب نیپچون کا سب سے بڑا چاند ٹرائٹن تھا، جو ابتدا میں نظامِ شمسی کے بیرونی علاقے کائپر بیلٹ میں موجود تھا۔ اندازہ ہے کہ نظامِ شمسی کی تشکیل کے ابتدائی ایک ارب سال کے دوران نیپچون کی کششِ ثقل نے ٹرائٹن کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: 50 برس قبل روانہ ہونے والا ناسا وویجر زمین سے ایک نوری دن دور پہنچے کے قریب
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نیپچون کے گرد پہنچنے کے بعد ٹرائٹن کی کششِ ثقل نے وہاں پہلے سے موجود بڑے چاندوں کے مدار بگاڑ دیے، جس کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر تباہ ہو گئے۔ بعد میں انہی تصادمات سے پیدا ہونے والے ملبے سے موجودہ اندرونی چاند تشکیل پائے۔
تحقیق کے مطابق نیپچون کے یہ چھوٹے چاند سائنس دانوں کو ان قدیم برفیلے اجسام کے اندرونی حصوں کا براہِ راست مطالعہ کرنے کا نادر موقع فراہم کرتے ہیں، کیونکہ یہ مواد عام حالات میں موٹی برف کی تہوں کے نیچے چھپا رہتا ہے۔
ٹرائٹن نظامِ شمسی کا واحد بڑا چاند ہے جو اپنے سیارے کی گردش کے الٹ سمت میں گردش کرتا ہے، جسے اس بات کا مضبوط ثبوت سمجھا جاتا ہے کہ وہ نیپچون کے ساتھ پیدا نہیں ہوا بلکہ بعد میں اس کے مدار میں شامل ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: روس کے خلائی مشن کی چاند پر کرش لینڈنگ کی اصل وجہ کیا تھی؟
یہ تحقیق سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مشتری، زحل اور یورینس کے برعکس نیپچون کے گرد بڑے چاندوں کا منظم نظام موجود نہیں، کیونکہ ٹرائٹن کی آمد نے اس کے قدیم قمری نظام کو مکمل طور پر تبدیل کردیا۔














