طیبہ تشدد کیس : سابق جج خرم علی اور انکی اہلیہ کی نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر

جمعہ 3 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں نامزد ملزمان سابق جج خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کی نظرثانی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں۔

سپریم کورٹ میں جسٹس یخییٰ آفریدی  کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 6 مئی کو کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں نامزد ملزمان سابق جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین علی کی سزا کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

یاد رہے کہ کم سن ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں ٹرائل کورٹ نے سابق جج راجہ خرم اور ان کی اہلیہ کو 1,1 سال قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں ملزمان کی سزا 1 سال سے بڑھا کر 3 سال کر دی تھی.

جنوری 2020 میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں ملزمان کی سزا واپس 1 سال کردی تھی۔

سابق جج راجہ خرم اور ان کی اہلیہ ماہین علی نے ٹرائل کورٹ کی سنائی گئی سزائیں بھی معطل کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں