کیا عارف علوی کوئی پارٹی عہدہ سنبھال سکتے ہیں؟

جمعہ 10 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیر اعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں سابق صدر عارف علوی نے مینڈیٹ چوری، جمہوریت، اور پارٹی کو مبینہ طور پر کرش کیے جانے پر لب کشائی کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی سے ہدایات ملی ہیں، تاہم انہوں نے ان ہدایات کی مزید وضاحت سے گریز کیا۔

صدر مملکت کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد پہلی مرتبہ ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے اس نوعیت کی گفتگو کے بعد اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا عارف علوی سیاست میں دوبارہ سے فعال اور متحرک ہوتے ہوئے کوئی پارٹی عہدہ سنبھالنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

اس پس منظر میں وی نیوز نے قانونی ماہرین سے رابطہ کرکے سابق صدر مملکت عارف علوی کی سیاست میں شمولیت کے موضوع پر قانونی رائے جاننے کی کوشش کی۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے آئینی ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ پاکستان کے 1973 کے آئین یا الیکشن ایکٹ 2017 میں ایسی کوئی بظاہر شق موجود نہیں ہے جو سبکدوش صدر کو ان کی مدت ملازمت کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے منع کرتی ہو۔

’سبکدوش ہونے والا صدر سیاست میں حصہ لے سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ  معلومات اور راز کے حوالے سے اپنے حلف سے روگردانی نہیں کر سکتا، جس حلف اور قانون کے تحت وہ صدر ہوتے ہوئے ایسی معلومات دوسروں یا عوام کو اس وقت تک شیئر نہیں کر سکتا تھا جب تک کہ قانون اسے ایسا اختیار نہ دے۔‘

اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ احسان کا کہنا تھا کہ دوسری صورت میں اور اگر سبکدوش صدر ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔

’ملک کا صدر بننے کے بعد وہ اپنے دور اقتدار میں سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے اور وہ اپنے سیاسی عہدوں اور سیاسی سرگرمیوں کو بھی عام طور پر غیر جانبدار دفتر اور سربراہ مملکت کی حیثیت سے چھوڑ دیتے ہیں۔‘

اس حوالے سے ماہر قانون کامران مرتضی کا بھی یہی کہنا تھا کہ عارف علوی سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں اور پارٹی کا کوئی عہدہ بھی سنبھال سکتے ہیں، کیونکہ آئین میں اس ضمن میں کوئی ممانعت نہیں ہے کہ سابق صدر سیاست نہیں کر سکتا۔

’آئین کا آرٹیکل 17 ہر شخص کو سیاست میں شمولیت کی اجازت دیتا ہے، تو اس کے مطابق سبکدوش صدر بھی سیاست میں آ سکتا ہے، البتہ اگر وہ صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے سیاست کرنا چاہتے تو پھر ایسا ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔‘

سابق اٹارنی جنرل شاہ خاور کا موقف قدرے مختلف ہے، ان کا کہنا ہے کہ آئین میں ’سروس آف پاکستان‘ میں رہنے والے شخص کے لیے 2 برس تک کی پابندی ہے کہ وہ سیاست میں شمولیت اختیار نہیں کر سکتا۔ ’۔۔۔تو گورنر اور صدر کے لیے بھی یہی اصول ہے کہ وہ 2 سال کے بعد سیاست میں آسکتے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی مخالف ویڈیوز پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج

فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

ویڈیو

پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘