پیپلزپارٹی بہت جلد وفاقی کابینہ کا حصہ بن جائے گی، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

ہفتہ 11 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشیر وزیراعظم پاکستان و سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی بہت جلد وفاقی کابینہ کا حصہ بن جائے گی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی ملاقات ہوئی تھی جس میں کچھ معاملات پر گفت و شنید ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ اب اطلاعات ہیں کہ بلاول بھٹو اپنی پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلا رہے ہیں جس میں وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کی اجازت مانگی جائے گی۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ نواز شریف سیاست کررہے ہیں۔ مرکز اور پنجاب کے تمام فیصلے ان کی مشاورت سے ہورہے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ پارٹی صدر بننے کے بعد وہ تمام معاملات کو خود دیکھیں۔

انہوں نے کہاکہ جب تک تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر نہیں بیٹھیں گی ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے، لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان ہے۔

انہوں نے کہاکہ اکتوبر 2011 سے آج تک عمران خان اپنے مخالف سے بات کرنے پر یقین نہیں رکھتا، اب کہہ رہا ہے کہ بات صرف اسٹیلبمشنٹ سے کرنی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کا مخالف کیمپ میں جانا ہمارے اور ملک کے مفاد میں ہوسکتا ہے، اگر مخالف اتحاد مذاکرات پر آمادہ اور فضل الرحمان بھی اس میں ہوں تو فائدہ ہوگا۔

انتخابات سے متعلق شکایات کے معاملے پر پارلیمانی کمیشن بننا چاہیے

انہوں نے کہاکہ انتخابات سے متعلق شکایات کے معاملے پر پارلیمانی کمیشن بننا چاہیے، پی ٹی آئی کے دور میں بھی پارلیمانی کمیشن بنا تھا لیکن اس کا ایک ہی اجلاس ہوسکا، کیونکہ عمران خان اس پر پیشرفت نہیں چاہتے تھے ورنہ انتخابی اصلاحات کی صورت میں یہ قضیہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جاتا۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ مذاکرات جب بھی ہوں گے غیر مشروط ہوں گے، عمران خان ایک حقیقت ہیں لیکن ان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی ایک حقیقت ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پہلے فیز میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیئیں جبکہ دوسرے فیز میں اداروں کو بھی اس میں ہونا چاہیے۔

مشیر وزیراعظم نے کہاکہ 70 سال کے بعد بھی ہم فری اینڈ فیئر انتخابات کرانے پر متفق نہیں ہوسکے، ہر الیکشن کے بعد ایک شور ہوتا ہے، اس کا کوئی حل نکلنا ضروری ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کی مدت کم از کم 3 سال ہونی چاہیے

انہوں نے کہاکہ گرینڈ مذاکرات میں انصاف کے نظام پر بات ہونی چاہیے جبکہ اداروں کے کردار بھی گفتگو ضروری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کی مدت کم از کم 3 سال ہونی چاہیے۔ اور اس پر بات چیت ہورہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp