مریم نواز سارے میونسپل کام کررہی ہیں، بہتر تھا وہ لاہور کی میئر بن جاتیں: دانیال عزیز

بدھ 15 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مسلم لیگ ن کے سابق رہنما دانیال عزیز نے کہا ہے کہ ن لیگ لوگوں کو اصل حقیقت بتا نہیں سکی کہ حالیہ انتخابات میں پی ٹی آئی کا اپنی مقبولیت کا بیانیہ جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے کیونکہ وہ ڈفر ہیں پریس کانفرنس کے لیے تیاری نہیں کرتے صرف منہ پر پانی کا چھینٹا مار کر آجاتے ہیں۔

وی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں دانیال عزیز نے مریم اورنگزیب کو عام انتخابات سے قبل میڈیا ٹیم کا سربراہ بنائے جانے پر نواز شریف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن اپنا سچ نہیں بول سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے اگر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہیں تو پھر (عمران خان) کیوں کہتے رہے کہ آپ میری حکومت بحال کریں تو تاحیات آرمی چیف بنادوں گا؟ کیا یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ہے؟

انہوں نے کہا کہ ’یہ بات (ن لیگ والے) بتا ہی نہیں سکے، یہ ڈفر ہیں۔ یہ اصل حقیقت بتا ہی نہیں سکے۔ ابھی بھی اصل سانحہ یہ نہیں کہ کسی جماعت ( پی ٹی آئی) کو اکثریت مل گئی یا نہیں اصل بات یہ ہے کہ سب جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے۔ ابھی بھی میں یہ کہتا ہوں‘۔

اس سوال پر کہ یہ سب کچھ اب بھی بدل سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ’بالکل بدل سکتا ہے اگر آپ عوام کوفیکٹس اینڈ فگرز کے ساتھ سچ بتائیں ۔ گپ شپ کے ساتھ نہیں منہ پر پانی کا چھینٹا مار کر آ جاتے ہیں۔ اس کے لیے تیاری کرنی پڑتی ہے۔ وہ یہ ن لیگ والے کر ہی نہیں سکتے۔ ان کے پاس بندہ ہی کوئی نہیں ہے۔ پہلے ان کے لیے ریسرچ میں کرتا تھا۔ میں ٹی وی پر جا کر بتاتا تھا جس پر ( پارٹی کے) کچھ لوگ ناراض ہو گئے‘۔

’نواز شریف لڑائی کروا کر صلح کرواتے ہیں‘

دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی قیادت یعنی میاں نواز شریف کی عادت ہے کہ وہ ضلعے میں سب کو لڑوا کر رکھتے ہیں تاکہ ان کو بیچ سے اطلاع ملتی رہے اور خود ثالث بنے رہیں اور صلح کروا دیں۔

انہوں نے کہاکہ ’یہ اپنی ریوڑیاں بانٹنے کے لیے ہماری نسلیں مقروض کرتے ہیں کیونکہ یہ سب چیزیں قرض سے بنتی ہیں۔ اب تھوڑی آگاہی آ رہی ہے جب میڈیا آزاد ہو رہا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے سنہ 2015 میں احسن اقبال کے ساتھ ان کا معاہدہ کروا کر صلح کروائی تھی مگر احسن اقبال نے اس معاہدے پر عمل نہیں کیا اور حالیہ انتخابات میں انہیں ایم پی اے کا ٹکٹ نہیں دیا بلکہ اپنے بیٹے کو لے آئے اور پھر بعد میں کسی اور کو ٹکٹ دے دیا۔

ن لیگ کے سابق وزیر کا کہنا تھا کہ انہیں ن لیگ کے دفاع کا کوئی پچھتاوا نہیں ہے جو کچھ ان کے ساتھ ہوا سیاسی پارٹیوں کا پاکستان میں طریق کار ہی یہی ہے۔ پیپلز پارٹی میں رضا ربانی اور اعتزاز احسن کے ساتھ یہی ہوا اور پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین اورعلیم خان کے ساتھ بھی۔ اسی طرح ن لیگ میں بہت سارے ہیں جن کے ساتھ ان جیسا سلوک ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے شو کاز نوٹس دیا گیا کہ آپ نے مہنگائی پر بات کرکے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔ میں نے جواب دیا کہ میں نے غلط بات نہیں کی سارے دستاویزات بھی ساتھ لف کیے۔ احسن اقبال جو نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے سربراہ ہیں ان کے اپنے ڈاکیومنٹس یہی سب کہتے تھے۔

دانیال عزیز نے کہا کہ ’پارٹی کا کنٹرول رکھنے کے لیے اندھوں میں کانے راجے ضروری ہیں لیکن اگر کوئی 2 آنکھوں والا آ جائے تو اسے نکالنا ضروری ہو جاتا ہے‘۔

ن لیگ کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ  بیانیے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ تھوڑی دیر کےلیے تھا اب اصلیت سامنے آ گئی۔

مریم نواز کی کارکردگی کیسی جا رہی ہے؟

اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی۔ میں نے کوئی پالیسی نہیں دیکھی کہ کسی قانون میں ترمیم ہو رہی ہو۔ کوئی رولز کی ترمیم ہو تو سمجھ آئے کہ یہ نئی چیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہاں چل یہ رہا ہے کہ چونکہ این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے صوبوں کے پاس کچھ پیسے ہیں تو وہی ریوڑیاں بٹ رہی ہیں۔ سولر پینل، موٹر سائیکل، لیپ ٹاپ اور آٹے کے تھیلے بانٹ دیں‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ صاف ستھرا پنجاب وغیرہ سارے میونسپل کام ہیں انہیں چاہیے تھا کہ وہ لاہور کی میئر لگ جاتیں۔

دانیال عزیز نے کہا کہ وہ مریم نواز کی کارکردگی پر کافی فکر مند ہیں کیونکہ مسلم لیگ ن اب بھی 90 کی دہائی کی سیاست کر رہی ہے جبکہ ہمارا ووٹر گریجویشن کر گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ اصلی باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایلیٹ میں ہمیں کون حصہ دلوائے گا؟ حکومت کس مرض کی دوا ہے۔ کشمیر میں پہلا سیمپل ملا تو ہوش ٹھکانے آ گئے۔ الیکشن سے قبل یہی آواز میں نے اٹھائی کہ مہنگائی کا بتائیں کیا حل کریں گےتو مجھے اس کی سزا ملی۔

’موجودہ مہنگائی کی بنیاد پی ٹی آئی نے رکھی‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ مہنگائی صرف ن لیگ کے دور کی نہیں اس کی بنیاد پی ٹی آئی نے رکھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بچے بچے کی زبان پر ہونا چاہیے تھا کہ مہنگائی کا ذمہ دار کون تھا؟ عمران خان کی حکومت نے جب خود کو جاتے دیکھا تو خزانوں کے منہ کھول دیے جس سے مہنگائی کا طوفان آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم اورنگزیب کی جانے کیا مجبوری تھی کہ انہوں نے پرچار ہی نہیں کیا کہ مہنگائی کا کون ذمہ دار ہے۔

گندم اسکینڈل پر ان کا کہنا تھا کہ نگران حکومت سے پہلے ہی گندم کے بحران کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے جبکہ8  فروری کے بعد موجودہ حکومت نے بھی گندم منگوائی ہے۔ پاسکو کے چند لوگ نکلوا دیے ہیں۔

دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کا فیصلہ نواز شریف نے کیا تھا جس پر پارٹی میں کافی ردعمل بھی آیا تھا مگر خواجہ آصف نے بتا دیا کہ فیصلہ کہاں سے آیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ میں ن ویسے ہی نہیں ہے وہاں نواز شریف کی بات ہی چلتی ہے۔

دانیال عزیز کا مستقبل کیا ہو گا؟

ان سے پوچھا گیا کہ اب ن لیگ کے بعد کیا وہ پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی میں شامل ہوں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ان جماعتوں کے پاس پاکستان کے مسائل کا کوئی حل نہیں اور بنیادی طور پر یہ جماعتیں ریٹائرڈ بیوروکریٹس چلاتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کو دیکھ لیں کہ سلمان فاروقی ان کو گزشتہ دور میں چلاتے تھے۔ ن لیگ کو سعید مہدی، فواد حسن فواد، توقیر شاہ چلاتے تھے آج کل احد چیمہ چلاتے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی نے شہزاد ارباب کو کے پی چیف سیکریٹری سے مستعفی ہونے کے بعد بلایا انہوں نے 100 دن کا ایحنڈا بنا کر دیا اور وزیراعظم ڈیلیوری یونٹ کا سربراہ بن کر حکومت چلا کر دی۔

ایس آئی ایف سی کا ایجنڈا انتظامیہ کے خلاف ایک قسم کی چارج شیٹ ہے کہ آپ پاکستان کا پوٹینشل دنیا میں نہیں دکھا سکے۔ سرخ فیتہ ختم نہیں کر سکے اور بیرونی سرمایہ کاری نہیں لا سکے۔

عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کو پتا نہیں چلتا تھا خود کہتے تھے میری بیوی مجھے بتاتی تھی کہ تم پاکستان کے وزیراعظم ہو۔ انہوں نے پاکستان کے مسائل حل کرنے ہیں۔

موجودہ جماعتوں کے پاس پاکستان کے مسائل کا حل نہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ایک نیا سیاسی پلیٹ فارم چاہیے۔ یہ ٹبر پال اسکیم ہے سیاسی جماعتیں نہیں ہیں۔

’سی ایم ایچ نے مجھے نئی زندگی دی‘

دانیال عزیز نے بتایا کہ 16 جون 2022 کو ایک شدید ایکسیڈنٹ کے بعد انہیں لاہور منتقل کیا گیا جہاں ان کا کافی اچھا علاج ہوا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’راولپنڈی سی ایم ایچ نے میری جان بچائی‘۔

انہوں نے کہا کہ سی ایم ایچ راولپنڈی پچھلے 25 سال سے افغان جنگ کے متاثرین کا علاج کرتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ایم ایچ راولپنڈی کے ڈاکٹرز بیرونی ممالک کے تربیت یافتہ ہیں جنہوں نے فوری علاج کیا جس سے وہ شفایاب ہوگئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp