پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ملازمین کا کیا ہو گا؟

بدھ 22 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی مشکل معاشی حالات کے باعث وہ قومی ادارے جو سرکاری خزانے پر بوجھ ہیں، ان کی فوری نجکاری کا اعلان کیا تھا۔

 پاکستان ایئر لائن (پی آئی اے) قومی خزانے پر بوجھ تصور کیے جانے والے سرکاری اداروں میں سے ایک ہے، جو کہ اس وقت 830 ارب روپے سے زیادہ کا مقروض ہے، اس قرض کی وجہ سے کئی برسوں سے پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مارچ میں بھی پی آئی اے کی نجکاری پر عملدرآمد کے لیے حتمی شیڈول طلب کیا تھا، لیکن اس کے باوجود ابھی تک نجکاری کا عمل مکمل نہیں ہو سکا، نجکاری کمیشن کے افسران کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل جاری ہے جسے مکمل کرنے کا ہدف اب بھی جون 2024 ہی ہے۔

سینیٹر ضمیر گھمرو نے سینیٹ اجلاس کے دوران پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے ملازمین میں سخت تشویش پائی جاتی ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ان کا کیا ہو گا؟۔

وفاقی وزیرِ براہ نجکاری عبدالعلیم خان نے بتایا کہ نجکاری مکمل ہونے کے بعد بھی ملازمین کم ازکم 3 سال تک نوکری کرتے رہیں گے بحرحال پی آئی اے نجکاری کا عمل شروع ہو چکا ہے جس کے لیے بولی ٹیلی ویژن پر لائیو دکھائی جائے گی۔

عبدالعلیم خان نے بتایا کہ پی آئی اے کے اس وقت صرف 18 جہاز چل رہے ہیں، ملازمین کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں ہے، اس کے باوجود ملازمین اور افسران کی تنخواہیں ادا کرنا حکومت کے اور ادارے کے لیے انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت سالانہ 100 ، 100 ارب روپے پی آئی اے کو نہیں دے سکتی، اس لیے حکومت 50 فیصد شیئر فروخت کرے گی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پی آئی اے کو چلائے گی۔

اس سے قبل سینیٹ اجلاس کے دوران پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینیٹر قراۃ العین مری نے کہا کہ اس وزیر پر آرٹیکل 6 کیوں نہیں لگایا گیا جس نے کہہ دیا تھا کہ پی آئی اے کے پائلٹ جعلی ہیں، سب کو معلوم ہے کہ اس سے پی آئی اے کا بہت نقصان ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ایک ایسی ایئر لائن تھی کہ جس نے ماضی میں کئی بڑی ایئر لائنز کو کھڑا کیا، پی آئی اے میں ملازمین کی تعداد دیگر ممالک کی ایئر لائنز سے زیادہ مختلف نہیں، کچھ ایئر لائنز کے ملازمین اس سے بھی زیادہ ہیں،اگرنجکاری کرتے ہیں تو پھر نجکاری کے عمل کو صاف و شفاف ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹویوٹا کا پاکستان میں تیار کی گئی گاڑیاں یورپی ممالک کو برآمد کرنے کا اعلان

مویشی منڈیوں کے علاوہ جانور کہیں فروخت نہیں ہوں گے، پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مزید 6 الیکشن ٹربیونلز تشکیل دیدیے

پاکستان ریلوے نے عید الاضحیٰ کی خصوصی ٹرینوں کا شیڈول جاری کر دیا

وفاقی وزیر مذہبی امور کا عازمین حج کی رہائش گاہوں اور ہسپتال کا دورہ، پاکستان کے لیے دعاؤں کی درخواست

ویڈیو

ڈیجیٹل ڈرائیونگ سینٹر جہاں پر سمولیٹر کے ذریعے خواتین کو ڈرائیونگ سکھائی جاتی ہے

وفاقی اور پنجاب حکومت میں شامل ہونے کا ابھی تک اشارہ نہیں ملا، رہنما پیپلزپارٹی حسن مرتضیٰ

بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کے لیے عید قربان پر پشاوری چیل کا خصوصی تحفہ

کالم / تجزیہ

’آپ مہدی حسن جیسی آواز کہاں سے لائیں گے‘

کیا سرجری کی ضرورت صرف کرکٹ ٹیم کو ہے؟

پاک بھارت میچ کا آنکھوں دیکھا حال!