گریڈ 16 سے 22 کے افسران کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرنے کی سفارش

جمعرات 30 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی وزیراعظم کو گریڈ 16 سے 22 تک کے افسران کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرنے کی سفارش کردی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی وزیراعظم محمد شہباز شریف کو گریڈ 16 سے 22 تک کے افسران کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرنے کی سفارش کردی۔

کمیٹی نے پاورڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے دی گئی گرانٹ میں سے ایک ارب 48 کروڑ لیپس ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نورعالم خان کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت توانائی سے متعلق سال 2021-22 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پاورڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے دی گئی گرانٹ میں سے ایک ارب 48 کروڑ لیپس ہونے کا انکشاف ہوا جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا اور حکام کے جواب پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔

کمیٹی نے گرانٹ لیپس ہونے کے معاملے سمیت دیگر آڈٹ اعتراضات کی انکوائری کرنے کی ہدایت کردی جب کہ وزارت توانائی کو دوبارہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی۔

چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ ہم نے بجلی کے مفت یونٹس ختم کرنے کی ہداہت کی تھی، کمیٹی کی ہدایت پر عملدرآمد کا جواب نہیں آیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ پاور ڈویژن کے نقصانات کتنے ہیں؟ اس پر سیکرٹری پاور ڈویژن نے جواب دیا کہ اس سال نقصانات 590 ارب تک ہوں گے۔

پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ افسران کو ایک سال میں قریباً 9 ارب روپے کی بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے۔

نور عالم خان نے کہا کہ ایم این اے اور پارلیمنٹیرینز نہ مفت بجلی لگاتے ہیں نہ ہی مفت گیس۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میکسیکو  کی چیف الیکشن کمشنر بدعنوانی کے الزامات پر مستعفی

فرانس: طلبا نے حکومتی تجاویز مسترد کردیں، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

ایپل کے نئے فولڈ ایبل آئی فون کی اسکرین ٹوٹنے لگی، کمپنی کا متبادل فون دینے کا اعلان

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو جبر سے نہیں دبایا جا سکتا، اسحاق ڈار

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں