کاغان: سیلاب کے باعث بڑی تعداد میں سیاح پھنس گئے، ہوٹل مالکان نے مفت رہائش کی پیشکش کردی

منگل 30 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کاغان میں مرکزی شاہراہ پر پل سیلاب سے تباہ ہوجانے پر وادی کا دیگر علاقوں سے رابطہ منطقع ہو گیا۔

راستے بند ہوجانے کے باعث بڑی تعداد میں سیاح پھنس کر رہ گئے ہیں ۔ ناران میں بھی سیلابی صورت حال ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلیشیئر پھٹنے سے کاغان ناران روڈ بند، سیاحوں کے لیے ہدایت

دریں اثنا وادی کاغان میں حالیہ سیلابی ریلوں کے پیش نظر کاغان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی شبیر خان اور ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) امین الحسن کی ہدایت پر اتھارٹی کے افسران نے ناران ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر سیٹھ میت اللہ کے ساتھ ایک میٹنگ کی تاکہ پھنسے ہوئے سیاحوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: ملک بھر میں بارشیں: مختلف حادثات میں 31 افراد جاں بحق، راولپنڈی اسلام آباد میں رین ایمرجنسی نافذ

میٹنگ کے دوران سیٹھ میت اللہ نے کاغان ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے وعدہ کیا کہ تمام پھنسے ہوئے سیاحوں کو مفت رہائش فراہمی کے علاوہ انہیں 2 وقت کا کھانا بھی رعایتی نرخوں پر دیا جائے گا۔

دریں اثنا کالام میں بھی مرکزی بازار کے قریب سیلابی ریلے کے باعث سڑک بند ہوگئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان