شیخ حسینہ کے خلاف مہم کی قیادت کرنے والا طالب علم رہنما ناہید اسلام کون ہے؟

منگل 6 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں مسلسل 15 سال تک حکمرانی کرنے والی شیخ حسینہ واجد طلبا تحریک کے نتیجے میں استعفیٰ دے کر بھارت پہنچ گئیں، جبکہ احتجاجی طلبا کے پرزور مطالبے پر بنگلہ دیشی صدر نے پارلیمنٹ بھی تحلیل کردی ہے۔

بنگلہ دیش میں ملازمتوں میں کوٹہ کے خلاف طلبہ کا احتجاج ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑنا پڑا، اور فوج نے ملک کا نظام سنبھال لیا۔ جبکہ اس دوران تقریباً 300 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں احتجاجی طلبہ کا الٹی میٹم کارگر، بنگلہ دیشی پارلیمنٹ تحلیل کردی گئی

اب ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے میں طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والا طالبعلم رہنما ناہید اسلام کون ہے؟

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 سالہ ناہید اسلام ڈھاکا یونیورسٹی میں سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے طالبعلم ہیں۔ اور وہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ناہید اسلام نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں دہشتگرد قرار دے دیا گیا تھا۔

ناہید اسلام سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے خلاف طلبا تحریک کے کوآرڈینیٹر تھے، جو شیخ حسینہ واجد کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں تبدیل ہوگئی۔

ناہید اسلام حکومت مخالف اس تحریک کے دوران اس وقت زیادہ مشہور ہوگئے جب گزشتہ ماہ انہیں ڈھاکا یونیورسٹی کے کچھ دیگر دوستوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس وقت بنگلہ دیش کا نظام فوج نے سنبھالا ہوا ہے تاہم طلبا نے عبوری حکومت کے لیے نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر یونس کا نام تجویز کیا ہے، جبکہ ڈاکٹر یونس نے بھی عبوری حکومت کی سربراہی کے لیے حامی بھر لی ہے۔

’شہدا کے خون کے ساتھ غداری نہیں کریں گے‘

ناہید اسلام نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں کہا ہے کہ طلبا فوج کی زیرقیادت یا حمایت یافتہ کسی بھی حکومت کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہاکہ اپنے وعدے کے مطابق ایک نیا جمہوری بنگلہ دیش ضرور بنائیں گے۔

ناہید اسلام 1998 میں ڈھاکا میں پیدا ہوئے اور شادی شدہ ہیں، ان کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے، جس نام نقیب ہے، جبکہ ان کے والد استاد اور والدہ گھریلو خاتون ہیں۔

یہ بھی پڑھیں شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے بعد بنگلہ دیش میں کیا کچھ ہوا؟

یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کا سورج غروب ہوتے ہی اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیا سمیت دیگر اسیر سیاسی رہنماؤں کو بھی رہا کردیا گیا ہے، جبکہ اعلیٰ عہدوں پر اکھاڑ پچھاڑ بھی جاری ہے، اور بنگلہ دیشی فوج کے انٹیلیجنس چیف کو برطرف کردیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بنگلہ دیش ہاتھ سے نکلا تو بھارت کو پڑوسی یاد آگئے، طارق رحمان کو دہلی بلانے کے لیے بے تابی

پانچوں آئل ریفائنریاں ریفائنری اپ گریڈ پالیسی کے تحت معاہدوں کے لیے تیار، علی پرویز ملک

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ