’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جبکہ شوبز شخصیات نے بھی سانحے پر شدید دکھ اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

اداکارہ ماہرہ خان نے سانحے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لوگ روزانہ غفلت، طاقت، صنفی تعصب اور خاموشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ملک کو مزید کتنی جانوں کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑے گا اور حالات کب تک ایسے ہی رہیں گے؟

ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات نے انہیں شدید بے بسی اور مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے وہ روزانہ خبریں دیکھ کر رو پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سانحات میں جانیں گنوانے والے معصوم افراد کہیں جلد ہی ’ایک اور ہیش ٹیگ‘ بن کر نہ رہ جائیں اور لوگ کچھ عرصے بعد سب کچھ بھول جائیں۔

اداکارہ نے پمز میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کے ساتھ ساتھ ملک میں پیش آنے والے دیگر افسوسناک واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ذمہ دار کون ہے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے جب آج تک کسی کو جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا؟

دوسری جانب سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی پمز سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو ناقابلِ تصور قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مبینہ رویے پر بھی تنقید کی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Bushra Bashir (@ansari.bushra)

بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد پہلے ہی اپنے بچوں کے نقصان کے باعث شدید صدمے میں ہیں، ایسے میں ان کی شکایات سننے کے بجائے انہیں ڈانٹنا مناسب رویہ نہیں۔ انہوں نے وزیر صحت پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور عوام کی شکایات سنیں۔

سینئر اداکار خالد انعم نے بھی حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں سے کارروائی کی توقع کرنا ’بھینس کے آگے بین بجانے‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے معروف کالم نگار اردشیر کاوس جی کا قول دہراتے ہوئے کہا کہ ’بے شرم کو شرمندہ نہیں کیا جا سکتا‘۔

 

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Khaled Anam (@khaled_anam)

خالد انعم نے خدشہ ظاہر کیا کہ سانحے کے بعد کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، تحقیقات ہوں گی، رپورٹس جاری ہوں گی اور اعلانات کیے جائیں گے تاہم عملی طور پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی۔ انہوں نے دعا کی کہ پمز سانحے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

نیمل خاور نے بھی پمز میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’مزید کتنی ماؤں کو اپنے بچے کھونا ہوں گے؟ مزید کتنی بچیوں کو تکلیف برداشت کرنا پڑے گی کہ یہ سب کچھ رک جائے؟‘

انہوں نے کہا کہ ان کا دل پمز میں اپنے نومولود بچوں کو کھونے والے خاندانوں، حنا جاوید اور ہر اس خاتون اور بچی کے ساتھ ہے جس نے ناقابلِ تصور تشدد کا سامنا کیا۔

شوبز شخصیات نے اجتماعی طور پر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پمز سانحے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

کیا پاکستان چین سے دور ہوسکتا ہے؟ شبر زیدی کی پرانی ویڈیو کو تجزیہ کاروں نے مسترد کردیا

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ