عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

بدھ 26 اگست 2026
author image

عبیداللہ عابد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ ایک ہی گاؤں کے تین نوجوان ہیں۔ پہلے کا باپ عام آدمی ہے، دوسرے کا باپ بھی ایک عام آدمی ہے اور تیسرے کا باپ بھی عام آدمی ہی ہے۔

ایک نوجوان کا باپ ایک عام کسان ہے، جس کی گھریلو معیشت کا 100 فیصد انحصار کھیتی باڑی پر تھا۔ وہ ایک ایسے ملک کا باسی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی معیشت کا 70 فیصد انحصار زراعت پر ہے۔

کوئی وقت تھا جب اِس عام آدمی کے وسیع و عریض سرسبز و شاداب باغات پھلوں سے لدے ہوتے تھے، تاحد نظر فصلیں لہلہاتی تھیں، اس کے باپ دادا کے رہٹ خوب چلتے تھے، پھر ڈیزل اور بجلی کا دور آیا تو ٹیوب ویل خوب پانی نکالنے لگے، اس کی  درجن بھر گائیں، بھینسیں خوب دودھ دیتی تھیں۔ شہر تک دودھ جاتا تھا۔ پھر ایسے دن آئے کہ باغ، فصلیں، ٹیوب ویل اور مویشی سب سوکھ گئے۔

سبب یہ تھا کہ ملک کا حکمران کسان سے گندم بہت کم داموں خریدتا تھا، کسان چیختا چلاتا تو اس سے گندم خریدنے سے صاف انکار کردیتا تھا، اور کسی دوسرے ملک سے منگوا لیتا تھا۔

بے چارے کسان کا گنا شوگر ملوں کے باہر پڑے پڑے سوکھ جاتا تھا، سبب یہ تھا کہ وہ شوگر مل والوں کے استحصالی ریٹ پر فروخت کرنے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ اس نے گندم، گنا سمیت سب فصلیں اُگانا چھوڑ دیں، اس کے باغات اجڑ گئے، مویشیوں کو خوراک کے لالے پڑ گئے، اور وہ سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے۔ چنانچہ کسان نےکھیت، باغات اور مویشی سب کچھ بیچ دیے۔ یہ سب کچھ اُس ملک میں ہوا جہاں کا حکمران دعویٰ کرتا تھا کہ وہ کسان دوست ہے۔

کسان کا یہ بیٹا ایک ایسے کھیت کنارے بیٹھا باپ دادا کی کہانی سنا رہا تھا جو اس کے باپ نے مجبوراً  کسی بڑے جاگیردار کے ہاتھ اونے پونے بیچ دیا تھا۔

نوجوان کو ایک واقعہ یاد آیا، اس نے اپنے دوستوں کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ کے ایک انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لائے۔ وہاں ایک اونٹ بندھا ہوا تھا۔ جیسے ہی اونٹ نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، وہ بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

آپ ﷺ اونٹ کے قریب تشریف لے گئے، شفقت سے اس کے سر اور کنپٹی پر ہاتھ پھیرا۔ اونٹ پُرسکون ہوگیا اور اس کے آنسو تھم گئے۔

آپ ﷺ نے پوچھا: ’اس اونٹ کا مالک کون ہے؟‘

ایک انصاری نوجوان سامنے آئے اور عرض کیا: ’یا رسول اللہ! یہ اونٹ میرا ہے۔‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جس کا مالک اللہ نے تمہیں بنایا ہے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے طاقت سے زیادہ کام لے کر تھکاتے ہو۔‘

 پھر کسان کے بیٹے نے سر جھکا لیا۔ اس کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہوگئے۔ وہ بولا:

’کاش! آج رسالت مآب ﷺ موجود ہوتے، وہ اور اس کا باپ ان ﷺ کے سامنے یہ ساری شکایت بیان کرتا!!

پھر دوسرے نوجوان نے اپنے باپ کی کہانی سنائی، جو ایک سفید پوش انسان تھا۔ اس نے ساری عمر غربت سہتے، سہتے گزاری۔ ایک دن اس نے غربت کے شکنجے سے نکلنے کے لیے، قریبی شہر میں چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ اس کے بزنس نے دن دوگنی، رات چوگنی ترقی کرنا شروع کردی۔ جب اس کی خبر شہر کی انتظامیہ، ٹیکس جمع کرنے والے ادارے اور  دیگر بالادست لوگوں کے کان میں پڑی، وہ ایک دم، سب کے سب باؤلے کتوں کی طرح اس پر پل پڑے۔ اس کے باپ کا کامیاب ہوتا کاروبار ناکام ہوگیا۔ تب سے اب تک اس کا باپ گاؤں ہی میں پڑا ہوا ہے۔

پھر اس نوجوان نے  اپنے دونوں دوستوں کے سامنے ایک واقعہ بیان کیا۔ ایک غریب تاجر اپنے اونٹ بیچنے مکّہ آیا۔ ابو جہل نے اس سے اونٹ خرید لیے لیکن قیمت دینے سے صاف انکاری ہو گیا۔ وہ شخص قریش کے سرداروں کے پاس گیا۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ ’سامنے محمد (ﷺ) بیٹھے ہیں، ان کے پاس جاؤ وہی تمہارا حق دلا سکتے ہیں۔‘

وہ شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا ماجرا سنایا۔ آپ ﷺ فوراً اٹھے، اس کے ساتھ ابو جہل کے گھر گئے، دروازہ کھٹکھٹایا، ابوجہل باہر نکلا تو اسے فرمایا کہ اس شخص کے پیسے ادا کرو۔

ابو جہل آپ ﷺکا جلال دیکھ کر خوفزدہ ہوا۔ فوراً اندر سے لا کر پوری رقم ادا کی۔ اور وہ مظلوم شخص اپنا حق لے کر دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔

تب تیسرے نوجوان کو بھی رسول اللہ ﷺ کے مخالفین کی ایسی ہی ایک شرارت یاد آئی۔اس نے ایک بچے کا قصہ بیان کیا، جس کا مال ابو جہل نے دبا رکھا تھا۔ وہ بچہ بھوک اور مفلسی کی حالت میں سڑکوں پر رُل رہا تھا۔

رسول اللہ ﷺ کے مخالفین نے شرارت کے طور پر اُس بچے سے کہا کہ محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ۔

وہ بچہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، رو کر اپنی داستان سنائی۔ آپ ﷺ بنفسِ نفیس اس یتیم بچے کا ہاتھ پکڑے ابو جہل کے پاس گئے، اُس سے یتیم کا پورا مال اور جائیداد واپس کروائی۔

اس تیسرے نوجوان کو ’حلف الفضول‘ نامی معاہدہ بھی یاد آیا جس کا تعلق بعثتِ نبوی ﷺ سے پہلے کے دور سے تھا۔ آنحضرت ﷺ اس معاہدے کا حصہ بنے۔ اس کا مقصد مکّہ میں ہر مظلوم کی مدد کرنا تھا چاہے وہ مقامی ہو یا باہر کا۔ نبوت کے بعد بھی آپﷺ قبل از اسلام دور کے اس معاہدے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔

نوجوان نے بتایا کہ مکہ میں جب بھی کسی باہر سے آنے والے تاجر کا مال زبردستی چھینا جاتا، وہ صدا لگاتا اور آپ ﷺ اس کا حق دلاتے تھے۔

صلح حدیبیہ کے بعد قریش اور ان کے حلیف بنو بکر نے مل کر مسلمانوں کے حلیف قبیلے ’بنو خزاعہ‘ پر رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا اور حرم کی حد میں ان کا قتلِ عام کیا۔

بنو خزاعہ کا ایک شخص عمرو بن سالم خزاعی روتا ہوا مدینہ منورہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پہنچا اور اشعار کی صورت میں اپنی مظلومی کا حال بیان کیا۔ آپ ﷺ نے اس کی فریاد سن کر فرمایا:

‘اے عمرو بن سالم! تمہاری مدد کی جائے گی۔’

اور یہی واقعہ عظیم الشان ’فتحِ مکہ‘ کی بنیاد بنا۔

دوسرا نوجوان دوستوں کو یاد دلاتے ہوئے بولا :’ وہ، اس کا باپ اور اس کا خاندان ایک ایسے ملک میں تڑپ تڑپ کے زندگی کے روز و شب گزار رہا ہے جہاں قانون کے کاغذوں میں خوراک، ادویات، بجلی اور پیٹرول سمیت تمام بنیادی ضروریاتِ زندگی پر جنرل سیلز ٹیکس اور دیگر بلواسطہ ٹیکسز کا ہر عام و خاص پر یکساں اطلاق ہوتا ہے حالانکہ اسلام میں ٹیکس (زکوٰۃ و عشر کے علاوہ) صرف شدید ضرورت کے وقت اور صاحبانِ ثروت پر ان کی استطاعت کے مطابق لگایا جا سکتا ہے۔

نوجوان نے کہا کہ ہوسکتا ہے، کبھی یہاں ہر خاص و عام پر ٹیکسز کا یکساں اطلاق ہوتا ہو۔ پھر اس نے سر جھکا لیا، کافی دیر تک سوچتا رہا ہے لیکن اسے ایسا کوئی دور یاد نہ آیا ہو جب سب پر یکساں اطلاق ہوتا ہو۔

پھر وہ بولا: ہمارے ہاں جی ایس ٹی سمیت تمام  دیگر بلواسطہ ٹیکسز عام، کمزور افراد ہی دیتے ہیں، خاص آدمی، طبقہ اشرافیہ ٹیکس نہیں دیتا اور نہ ہی کوئی اس سے ٹیکس مانگنے کی جرات کرتا ہے۔

یہ بات اس عام آدمی کے ملک کا حکمران بھی جانتا اور مانتا ہے۔ وہ اپنی تقریروں میں ایک بار نہیں، بار بار پوچھ چکا ہے ’اے طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والو! ہمارا تنخواہ دار اتنا ٹیکس دیتا ہے، بتاؤ! تم کتنا ٹیکس دیتے ہو؟؟؟؟ ‘

ایسے میں کسان کا بیٹا کہنے لگا ’حکمران کو طبقہ اشرافیہ سے یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے، بلکہ ساری رعایا کو برسرعام بتانا چاہیے کہ  کون کتنا ٹیکس دیتا ہے۔کیا حکمران طبقہ اشرافیہ سے ڈرتا ہے یا وہ انھیں تحفظ دیتا ہے اور عام لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے!‘

پھر اس کو یاد آیا کہ رسول مہربان ﷺ کی تعلیمات کے مطابق بیت المال(خزانہ) کی رقم تمام شہریوں کی امانت ہے۔ اس کا استعمال بلا تفریق ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں حکومتی اشرافیہ، وزراء اور بیوروکریسی کو مفت بجلی، پیٹرول، گاڑیوں اور دیگر مراعات کی فراہمی ہوتی ہے جبکہ ان کا تمام تر مالی بوجھ غریب اور متوسط طبقہ عوام کے ٹیکسوں سے پورا کی جاتی ہیں۔

وہ بولا کہ آج رسول اکرم ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما ہوتے، وہ اور دیگر سارے عام آدمی حکمران اور اس کے ہرکاروں کے خلاف شکایت لے کر آپ ﷺ کے پاس جاتے، تب رسول مہربان ﷺ کا ردعمل کیا ہوتا؟

اگر اس ملک کے وہ تمام کسان، محنت کش  دربار رسالت ﷺ میں حاضر ہوتے اور شکایت کرتے کہ ان کی گندم اور گنا کی فصل کی اصل قیمت پر اور بروقت خریداری نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے ان کی فصل خراب ہوجاتی ہے، گنے کا رس سوکھ جاتا ہے، حکمران اپنے کسانوں سے فصل خریدنے کی بجائے باہر سے جنس برآمد کر لیتا ہے، یوں یہاں کے کسان کا معاشی قتل عام کرتا ہے، کیا ایسے میں رسالتِ مآب ﷺ ریاست کے عامل کو طلب نہ فرماتے؟ پھر علاقے کے حکمران کے پاس کیا جواب ہوتا؟

تیسرا نوجوان جس کے باپ نے انیس برس جیل میں قید گزارے، پھر ایک دن جج کو پتہ چلا کہ وہ بے گناہ ہے اور اسے بری کردیا، کہنے لگا:

’اگر میں رسالت مآب ﷺ کے سامنے اس ملک کی عدالتوں کے پیچیدہ اور طویل عمل، اور ہر سطح پر رشوت و سفارش کا نظام، جس کی وجہ سے مظلوم سالہا سال انصاف سے محروم رہتا ہے یا اپنے حق کے حصول کے لیے مزید مال لٹانے پر مجبور ہوتا ہے، کی بابت شکایت لے کر حاضر ہوتا اور دہائی دیتا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہی کی تعلیمات ہیں کہ فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عدل میں تاخیر، انصاف کا قتل ہے۔ لیکن اس ملک کے ججز ایک بڑے آدمی کے حق میں انصاف کا ترازو جھکانے کے لیے راتوں کو عدالت کے دروازے کھولتے ہیں لیکن باقی تمام عام آدمیوں کو دہائیوں تک انصاف نہیں دیتے، یہ سب عام آدمی انصاف حاصل کیے بغیر ہی مر جاتے ہیں۔

’میں چشمِ تخیل سے خوب دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ اس مظلوم آدمی کے دہائی کے جواب میں رسالت مآب ﷺ کیا فرماتے! ‘

دوسرا نوجوان بولا :’ مجھے  بہت پختہ یقین ہے کہ رسول اکرمﷺ ریاست کے حکمران کو فوراً طلب فرماتے، اس سے بازپرس فرماتے۔ جج کو بھی اپنے سامنے کھڑا کرتے اور اس سے بھی جواب طلبی فرماتے۔ ‘

پھر پہلا نوجوان کہنے لگا:’اے کاش! ہمارے حکمران اور دیگر عمّال، ججز اور بیوروکریٹس چند لمحے آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے حاضر کھڑا پائیں، اور رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں جواب طلبی پر اپنے جوابات پر غور کریں۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تعلیمات نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہو کر ملک کو امن و انصاف کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے، خورشید شاہ

پمز اسپتال سانحہ، وزیراعظم کا شدید برہمی کا اظہار، وفاقی سیکریٹری صحت معطل

پمز اسپتال سانحہ، سویٹ ہوم متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا، زمرد خان کا اعلان

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا آر ایس ایس سربراہ کی تقریب کی حمایت سے انکار

پمز اسپتال سانحہ: وزیراعظم کا نوٹس، واقعے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے کا حکم

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار

مولانا کیا چاہتے ہیں؟