وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر اصلاحات کے تمام اقدامات مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور اصلاحاتی عمل کی شفافیت، مؤثریت اور پائیداری یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں ادارے میں جاری اصلاحات، بالخصوص پی آر اے ایل کی تنظیم نو، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور اسمگلنگ کے تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا 11 ماہ کا خسارہ 868 ارب روپے تک پہنچ گیا
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، پیداوار کی نگرانی اور خودکار نظام ایف بی آر اصلاحات کے اہم ستون ہیں۔ وزیراعظم نے ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر کارروائی مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم کو اجلاس میں پی آر اے ایل (PRAL) کی تنظیم نو پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحاتی اقدامات کے نفاذ کو معینہ… pic.twitter.com/yWcUHZUXrk
— Prime Minister's Office (@PakPMO) August 28, 2026
اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکس نظام کو جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے آئرس 3.0، نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور سینٹرل ڈیٹا ہب پر مرحلہ وار کام جاری ہے، جبکہ آئرس 3.0 کے ڈیزائن کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
بریفنگ کے مطابق پی آر اے ایل میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا سیکیورٹی، آپریشنز اور ٹیکس ڈومین سمیت مختلف شعبوں میں نئی سینئر قیادت تعینات کی گئی ہے۔
آئرس 3.0 کے تحت ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے، آٹو ٹیکس کے تصور کو پائلٹ کرنے اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کو ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔
مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: ٹیکس اصلاحات کے لیے پچھلے سال سے بھی کم، 11 ارب 57 کروڑ روپے مختص
کسٹمز کے شعبے میں فیس لیس اسیسمنٹ کے مثبت نتائج سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے جون 2026 کے دوران فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
فیس لیس اسیسمنٹ سے نہ صرف محاصل میں بہتری آئی بلکہ درآمدی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور ان کی نگرانی بھی بہتر ہوئی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹمز اسیسمنٹ کے نظام کو مزید مربوط بنانے کے لیے 280 گڈز ایویلیویٹرز کی بھرتی کا عمل آخری مراحل میں ہے۔
مزید پڑھیں: کابینہ کی منظوری کے بغیر ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا نہیں دے سکتے، ایف بی آر
اسلام آباد میں سینٹرل اسیسمنٹ یونٹ کے قیام پر بھی پیشرفت جاری ہے، جسے عبوری انتظام کے تحت 31 دسمبر 2026 تک فعال کرنے جبکہ مکمل مربوط سہولت کو جون 2027 تک نئے کمپلیکس میں فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2025 میں اس نظام کے ذریعے 236 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، جو جولائی 2026 میں بڑھ کر 2.5 ٹریلین روپے سے تجاوز کرگئیں۔
دسمبر 2026 تک ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 4 ٹریلین روپے کی ٹرانزیکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: کاروبار ڈیجیٹل نظام سے دور رہے تو بھاری جرمانوں کا سامنا، ایف بی آر کی نئی تجاویز
اسمگلنگ کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے قانونی پٹرول پمپس کی جی آئی ایس ٹیگنگ، جی پی ایس کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی ٹریکنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ای آر پی نظام کو ٹریکر سے منسلک کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مرکزی ٹریکنگ ایپ سمیت متعدد اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
راہِ گزر ایپ کے ذریعے 2,500 غیر قانونی پٹرول پمپس بند کرائے جا چکے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کا مقصد ٹیکس نظام کو جدید اور مؤثر بنانا، ریونیو وصولی میں اضافہ اور اسمگلنگ کا مکمل تدارک ہے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر میں انقلابی اصلاحات سے ٹیکس نظام میں شفافیت اور اربوں روپے کی ریکوری ممکن ہوئی، وزیر اطلاعات
انہوں نے ایف بی آر میں اچھی شہرت کے حامل گڈز ایویلیویٹرز کی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، رکن قومی اسمبلی عثمان اویسی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔














