اسلام آباد کے اکثر شہری اتوار کا دن تفریحی گاہوں میں گزارتے ہیں لیکن گزشتہ اتوار کو شہرِ اقتدار میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 5 مرتبہ جلسہ منسوخ کرنے کے بعد بلآخر 8 ستمبر کو دارالحکومت میں جلسہ کر رہی تھی اور اس جلسے میں شرکت سے روکنے کے لیے اسلام آباد کے تمام رہائشی علاقوں کے باہر کنٹینرز لگا کر راستے بند تھے جس کے سبب سڑکیں ویران تھیں، صرف موٹر سائیکل اور چند گاڑیاں ہی سڑکوں پر نظر آرہی تھیں۔
اسلام آباد سے جلسہ گاہ میں شرکت کے لیے مارگلہ ایونیو پر بھی کنٹینرز لگا کر راستوں کو بند کردیا گیا تھا تاہم ماضی کے برعکس کنٹینرز کے پاس اتنی گنجائش ضرور چھوڑی تھی جہاں سے موٹر سائیکل کا گزر ہوسکے۔

جلسہ گاہ میں دن 3 بجے سے ماحول بننا شروع ہوگیا تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر اس بار پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں خیبرپختونخوا کے کارکنان کی تعداد سے زیادہ جنوبی پنجاب کے اضلاع سے آنے والے شہریوں کی تھیں۔
راستوں کی بندش کے خطرے کے پیش نظر جنوبی پنجاب کے قافلے جلسے سے ایک دن پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے تھے جبکہ خیبر پختونخوا سے آنے والا قافلہ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں موٹر وے سے پہنچا تھا۔
جلسہ گاہ ایک ناہموار جگہ تھی اور جگہ جگہ کیچڑ اور پانی موجود تھا لیکن شام 5 بجے ہی پنڈال بھر چکا تھا۔ خیبر پختونخوا کے قافلے ابھی موٹر وے پر ہی موجود تھے اور جلسہ گاہ کو جانے والی جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں نظر آرہی تھی۔

علی امین گنڈاپور کو جلسے سے 7 بجے خطاب کرنا تھا مر رش کے باعث وہ جلسہ گاہ ساڑھے 8 بجے پہنچے اور خیبر پختونخوا سے آنے والی کئی گاڑیاں اسلام آباد داخل ہی نہ ہوسکیں۔
جلسہ گاہ کے شرکا کے جذبات عروج پر تھے کیونکہ 9 مئی کے بعد پاکستان تحریک انصاف پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا سے باہر اپنی سیاسی قوت دکھا رہی تھی۔ شرکا میں بزرگ، خواتین، بچے اور نوجوان سب ہی موجود تھے۔ جلسے کے شرکا جہاں اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے وہیں تحریک انصاف کی موجودہ قیادت سے بھی کچھ شکوہ کرتے نظر آئے۔

جلسہ گاہ کے داخلی دروازے پر ایک بزرگ درخت کے سائے میں سستا رہے تھے، ان سے پوچھا کہ بابا جی عمران خان کی غیر موجودگی کے باوجود جلسے میں کیوں آئے ہیں؟ تو جواب ملا کہ بیٹا بس ہمیں ہمارے لیڈر نے حکم دیا تھا کہ جلسہ گاہ پہنچنا ہے تو ہم پہنچ گئے ہیں، ہمیں ان رہنماوں کی تقاریر سے کوئی دلچسپی نہیں، یہ ہمیں بتائیں کہ اڈیالہ جیل کب جانا ہے۔
دیر سے آئے ایک اور بزرگ نے بتایا کہ وہ پہلے جماعت اسلامی کے ووٹر تھے لیکن جب سے عمران خان جیل گئے ہیں، ان کی قربانی اور جذبہ دیکھ کر لگتا ہے کہ اس قوم کو بڑے عرصے بعد ایک لیڈر ملا ہے۔
جلسے میں کئی نوجوان ایسے بھی تھے جن کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر اور سیکڑوں کلومیٹر دُور سے بذریعہ موٹر سائیکل پہنچے ہیں۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ بونیر سے موٹر سائیکل پر جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔
جلسہ گاہ میں ہر مکتبِ فکر، ہر عمر اور پاکستان کے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان اور کشمیر کے شہری موجود تھے۔
میانوالی سے ایک بزرگ سے جب جلسے میں شرکت کی وجہ پوچھی تو بولے ’عمران خان پہلے عشق تھا، پھر محبت، پھر جنون اور اب ضد بن گئے ہیں۔ بزرگ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ خان نے جو جنرل اسمبلی میں خطاب کیا تھا وہ دنیا کا کوئی لیڈر نہیں کرسکتا لیکن انہوں نے اسے قید کیا ہوا ہے‘۔














