چین چاند کی مٹی سے بنی اینٹیں کہاں استعمال کرنا چاہتا ہے؟

پیر 9 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے چاند کی مٹی سے اینٹیں تیار کی ہیں اور اب کا ارادہ ہے کہ ان اینٹوں کو چاند پر بھیج کر وہاں تحقیقی بیس تعمیر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کو چاند پر زندگی کے آثار کیسے ملے؟

غیر ملکی میڈیا کے مطابق چینی سائنس دان چاند کی مٹی سے بطور نمونہ بنائی گئی اینٹیں خلا میں بھیجنے کا پروگرام بنا رہے ہیں جس کا مقصد یہ تجربہ کرنا ہے کہ آیا ان اینٹوں کو چاند پر خلائی بیس کی تعمیر میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

خلا کے ماحول میں رکھی گئی ان اینٹوں کے جائزے کے بعد اندازہ لگایا جائے گا کہ انتہائی ماحولیاتی شرائط میں یہ اینٹیں کس قدر پائیدار ہیں۔

پلان کے مطابق یہ اینٹیں اگلے مہینے تیانزو۔8 کارگو خلائی گاڑی کے ذریعے تیانزو خلائی اسٹیشن بھیجی جائیں گی۔

مزید پڑھیے: چین کا خلائی مشن چاند سے کیا لیکر آیا ہے؟

چین سائنسی ایجادات اور وسائل کی تلاش کے لیے سنہ 2035 تک چاند کے جنوبی قطب  کے قریب بین الاقوامی لونر تحقیقی اسٹیشن  ILRS  تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس 3 سالہ تجربے میں سائنس دان اینٹوں پر ریڈی ایشن اور مختلف درجہ حرارت کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’وعدہ صادق 4’ کے پہلے 2 دنوں میں 650 امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، پاسداران انقلاب کا دعویٰ

پاکستان کا افغان طالبان کو منہ توڑ جواب، بگرام ایئربیس پر کامیاب فضائی حملہ

مسئلہ کشمیر حل تو ایٹم بم ختم؟ عمران خان کا بیان پھر وائرل، علیمہ خان کا موقف بھی سامنے آگیا

کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کا قتل، بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے شواہد بے نقاب

ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ کی عدم موجودگی میں عمران خان کا طبی معائنہ قابلِ اعتبار نہیں، پی ٹی آئی

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے

کیا مسلم دنیا مغربی ڈس انفارمیشن کا شکار ہو رہی ہے؟