پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان مارسک کے ٹرانس شپمنٹ پورٹ کیلئے معاہدے پر دستخط

بدھ 2 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان پائیدار بندرگاہوں اور انفراسٹرکچر میں شراکت داری کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔

اس معاہدے کے لیے ایس آئی ایف سی کی کوششوں کا بڑا عمل دخل ہے جو پاکستان کی معیشت کو درست راہ پر گامزن کرنے کے لیے کے لیے کوشاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں چین کے اعلیٰ سطح کے وفد کا ایس آئی ایف سی کا دورہ، سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

معاہدے پر ڈنمارک کے وزیر برائے صنعت، کاروبار اور مالیاتی امور ’مسٹر مورٹن بوڈسکوف‘ اور پاکستان کے وزیر برائے بحری امور قیصر احمد شیخ نے دستخط کیے۔

اس موقع پر وزارت خزانہ، صنعت و تجارت کے وزرا اور ایس آئی ایف سی کے عہدیداران بھی موجود تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے دروازے کھل جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں ایس آئی ایف سی کی معاونت سے چین کا پاکستان میں ٹیکسٹائل پارکس کے قیام کا اعلان

آج ہونے والے معاہدے سے بین الاقوامی کمپنی مارسک پاکستان میں ٹرانس شپمنٹ پورٹ بزنس کا آغاز کر دے گی، معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پاکستان اور ڈنمارک کے سفرا نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاہی خاندان سے دوری کے 6 سال بعد ہیری اور میگھن کا برطانیہ واپسی کا فیصلہ

ہیڈن پنیٹیئر کی موت کا معمہ، آخری لمحات کی تفصیلات سامنے آگئیں، بوائے فرینڈ نے بھی خاموشی توڑ دی

شام کے وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی واپس لے لی

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

ویڈیو

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

الیکٹرک بائیک یا اسکوٹر خریدیں، ایک لاکھ روپے حاصل کریں

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

کالم / تجزیہ

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک