یومیہ اجرت پر کام کرنے والے سرکاری ملازمین نوکریوں سے برطرف

جمعرات 3 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت یومیہ اجرت (ڈیلی ویجز) پر کام کرنے والے ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رائٹ سائزنگ پالیسی پر تیزی سے کام ہورہا ہے، نگرانی خود کررہا ہوں، وزیراعظم

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 30 ستمبر 2024 تک یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کارکنوں کی خدمات سرپلس پول میں منتقل کر دی گئی ہیں، جو کہ افرادی قوت میں کمی کی وسیع تر کوششوں کا آغاز ہے۔

نوٹیفکیشن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز میں یومیہ اجرت والے ملازمین کو بتایا کہ 30 ستمبر کے بعد ان کی خدمات کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

نوٹیفکیشن میں  کہا گیا ہے کہ وزارتوں اور ڈویژنوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو فارغ کرکے حکومت کی رائٹ سائزنگ پالیسی پر عمل کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی پینشن بم کی شکل اختیار کرچکی، اس نظام کو روکنا ہوگا، وزیر خزانہ

یوں تو اس اقدام کا مقصد اخراجات میں کمی اور کارکردگی کو بڑھانا ہے لیکن حکومت کے اس فیصلے سے مختلف شعبوں میں یومیہ اجرت والے ملازمین کی کافی تعداد متاثر ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت نے پہلی بار نئے وائرس ڈیزائن کر دیے، طبی تحقیق میں بڑی پیشرفت لیکن نئے خطرات بھی

ٹی وی کی سیاست سے اصل پارلیمنٹ تک، کنزا ہاشمی کا قومی اسمبلی کا دورہ

پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید، چین کا سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر فوری پابندی کا مطالبہ

آسٹریلیا کا اسمارٹ چشموں پر تشویش کا اظہار، نئے رازداری قوانین بنانے پر زور

موجودہ ٹیکس نظام کو چھیڑے بغیر مچھلی کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی اسکیم لانے کی تیاری

ویڈیو

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟