پرانی کتابوں کا اتوار بازار

ہفتہ 8 اگست 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’تیس، پچاس۔۔۔تیس، پچاس۔اِدھر دیکھ میرے بھائی! تیرا دھیان کدھر ہے؟ یہ دیکھ، سستا مال اِدھر ہے۔۔۔تیس، پچاس، تیس، پچاس‘۔

وہ گیارہ بارہ سال کا بچہ ا تنی قوّت سے آواز لگا رہاتھاکہ اس کے گلے کی رگیں پھول گئی تھیں۔کراچی  صدرمیں شام کے سائے تیزی سے بڑھتے چلے آرہے تھے، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ اس کا بچا ہوا ’مال‘ بھی آج ہی بِک جائے، اگلے ہفتے کی اگلے ہفتے دیکھی جائے گی!

اور اس کے پاس کیا مال تھا، جسے وہ اتنی بے تابی سے بیچ رہا تھا؟

یہ مال نہیں بلکہ دولت تھی۔ جیسا کہ ہم بچپن میں اپنے اسکول کی سلیٹ کے کناروں پر لکھا ہوا پڑھتے تھے:

 ’ علم بڑی دولت ہے ‘

آج وہی دولت کتابوں کی صورت میں، سڑک اور فٹ پاتھ پر، کچرے کے ڈھیروں کے قریب ہی  ڈھیر پڑی تھی اور شائقین ان کے قریب اکڑوں بیٹھے، اپنی پسند کے مطابق چھانٹی کر کے، منتخب شدہ ’دولت‘ بغل میں دبا تے جا رہے تھے۔

کراچی میں علم کی یہ دولت ہر اتوار کو بِکتی ہے۔پرانی کتابوں کا یہ فٹ پاتھی بازار بہت پرانا ہے مگر اتنا پرانا بھی نہیں، جتنی قدیم کتابیں یہاں مل جاتی ہیں۔ابھی پچھلے اتوار ہی کو مجھے وہاں علم نجوم پر لکھی ہوئی ایک قدیم قلمی کتاب ملی ۔۔۔صرف دو سو روپے سکّہ رائج الوقت میں۔اس کے علاوہ ڈاکیومینٹری میکنگ پر امریکا میں چھپی ہوئی بہترین اور ضخیم کتاب صرف چار سو روپے میں مل گئی جب کہ اس کی پرنٹیڈ پرائس 19.99 ڈالر تھی۔یہیں سے عمر خیام کی رباعیات کے مصّور ایرانی ایڈیشن(پاکٹ سائز) بھی سو سو روپے میں دستیاب ہوئے۔ایرانی نژاد امریکی خاتون لکھاری ڈاکٹر شہلا حائری کی معرکہ آراء کتاب Law of Desire بھی سستی مل گئی تھی۔

کراچی کے اس کتب بازار کے دورے کی تازہ دعوت، مجھے وہاں انگریزی کتابیں فروخت کرنے والے ایک نوجوان کامران قاسم نے دی جو مختلف وقتوں میں میرے  فیچرز پڑھتے رہے ہیں۔ وہی اس اتوار کو میرے میزبان بھی تھے، جنھوں نے بہترین چائے اور بڑھیا کیک رس کی دعوت کی، جس میں میرے جاننے والے ایک دو لکھاری بھی شریک ہوئے،جو وہاں سے گزر رہے تھے۔ کامران قاسم سے انگریزی کی ادبی اور ٹیکنیکل کتابوں کی امپورٹ پر بات ہوئی تو بتانے لگے:

’نئی انگریزی کتابیں کنٹینرز میں بھر کر مختلف ملکوں سے آتی ہیں، جہاں سے بڑے تاجر، دکاندار خرید لاتے ہیں۔مگر اب یہ ہے کہ دوسرے ملکوں سے کتابیں اور دوسرا کباڑ ایک ساتھ لوڈ کر کے بھیج رہے ہیں۔اور یہ سب گٹھڑیوں میں باندھ کر بھیجا جاتا ہے، جس سے کتابیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ پہلے کتابیں ہمیں الگ سے ملتی تھیں، مگر اب کچرا کباڑ ساتھ آ رہا ہے تو اس میں سے چھانٹی کی جاتی ہے۔ ان کتابوں میں مزید چھانٹی یوں کرکے ہم تک پہنچتی ہیں کہ نصابی کتب اور جنرل بکس الگ الگ کر لی جاتی ہیں۔ نصابی کتابیں اردو بازار والے لے جاتے ہیں، باقی ہم جیسے لوگ یہاں لے آتے ہیں ‘۔

ایک اور دکاندار نے بتایا کہ امریکا سے زیادہ تر کتابیں تاریخ کے موضوعات پر آتی ہیں۔ادبی اور عام کتابیں برطانیہ سے آرہی ہیں اور ان میں دنیا بھر کا لٹریچر شامل ہوتا ہے۔

پرانی اردو کتابیں ریگل بازار کے یہ دکاندار، کباڑیوں سے اور لوگوں کے گھروں سے خرید کر کے یہاں بیچتے ہیں۔ مگر اب گلی گلی پھرنے والے کباڑی بھی سیانے ہوگئے ہیں۔ وہ سستے نرخ پر ان دکانداروں کو کتابیں بیچنے کے بجائے خود ہی اتوار کو یہاں فٹ پاتھ پر دکان سجاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس طرح پہلے جو ’مال‘وہ تیس سے پچاس روپے فی کلو کے حساب سے بیچتے تھے، اب اسے فی کتاب تیس سے پچاس روپے میں ’لاٹ‘ کے حساب سے بیچتے ہیں۔

حفیظ الرحمان اس کتاب بازار کے معروف دکاندار ہیں جو نادر و نایاب کتابیں تلاش کرکے، انھیں شائقین تک پہنچانے کی اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آخر نایاب یا نادر کتاب کی کیا تعریف ہے؟۔

کہنے لگے:’ نادر کتاب کے حوالے سے ہر بندے کی اپنی الگ تعریف ہوتی ہے۔ کچھ لوگ وہ کتابیں تلاش کرتے پھرتے ہیں جو انھوں نے بچپن یا لڑکپن میں پڑھی تھیں۔ اب اگر ان کو ایسی کوئی کتاب نظر آجاتی ہے تو وہ اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہیں گے۔ اس کتاب پر پرنٹ پرائس بے شک چار آنے یا آٹھ آنے ہو مگر اس کے لیے وہ ہزار دو ہزار روپے بھی دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ کوئی ستر اسی سال کا بزرگ اگر یہاں آتا ہے اور اسے اگر اپنے بچپن یا لڑکپن کے دور کی کوئی کتاب نظر آجائے تو اس کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں اور وہ اس کتاب کو ہر قیمت پر حاصل کرے گا۔ اشتیاق احمد کے ناول جو آج سے تیس چالیس سال پہلے کے ہیں، ان کے شوقین بہت آتے ہیں۔کچھ لوگ وہ کتابیں تلاش کرتے ہیں جو انھوں نے اپنے والدین کے پاس دیکھی ہوں گی‘۔

آپ اس کام میں کب سے ہیں اور آپ کے پاس کس طرح کی نادر یا قدیم کتابیں رہتی ہیں؟

’میں تو تیس سال سے یہ کر رہا ہوں۔اس سے پہلے میں فرنیچر کا کام کرتا تھا۔مجھے مطالعے کا بہت شوق تھا تو گھر میں بہت کتابیں جمع ہوگئیں۔ پھر بیچنے کا خیال آیا تو اتنی اچھی قیمت نہیں ملتی تھی۔ اس لیے پھر یہاں لاکر بیچنا شروع کردیں۔ میرے پاس زیادہ تر طب کی پرانی اور اصلی کتابوں کی طلب اور کھپت رہتی ہے۔ جیسا کہ’ علاج الامراض‘ ہوگئی یا ایسی دوسری طبی نسخوں کی مستند کتب کی بہت ڈیمانڈ رہتی ہے‘۔

ایسی کون سی کتاب دیکھی، سنی یا بیچی ہے جو آج بھی یاد آتی ہے؟

’ایسی تو کئی ہوں گی۔ مگر ایک کتاب کا سنا ہے کہ وہ بہت نادر تھی۔ میر انیس کے مرثیوں کی مصّور کتاب تھی۔ کہتے ہیں کہ چغتائی صاحب مصور نے اس کتاب میں واقعہِ کربلا کی مصوری کی تھی، امام عالی مقام کے جلتے ہوئے خیمے وغیرہ بنائے تھے۔ اس کتاب پر مولائی لوگوں کو بہت غم و غصہ تھا ۔۔۔تو جہاں بھی ملتی تھی، وہ لے کر تلف کر دیتے تھے۔ اب وہ بالکل نایاب ہے۔اس کے علاوہ آپ جو بتارہے تھے کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کی پہلی کتاب جو ارنسٹ ٹرمپ نے جرمنی سے چھپوائی تھی، اب وہ بھی نایاب ہے‘۔

کامران قاسم نے ایک اور دکاندار فاروق بھائی اور ان کے ساتھ محمد علی کا فون نمبر بھی دیا تھا۔ ان سے رابطہ ہوا تو انھوں نے بتایا کہ لوگ جنھیں پرانی کتابیں کہتے ہیں، وہ ہمیں روز نئی لگتی ہیں۔جب سے یہ کام شروع کیا ہے، کئی نادر و نایاب کتب ہاتھ لگتی رہی ہیں جو قدردانوں تک پہنچائی ہیں۔

میں نے پوچھا کہ ایسی کسی کتاب کا نام یاد ہو تو بتائیں؟

’دیکھیں ، ویسے تو بہت نام بتاسکتے ہیں مگر’مرقع چغتائی‘ جیسی کتاب کوئی اور نہیں ملی۔ ایسی کتاب کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ اور بھی نادر ’چیزیں‘بیچی ہیں، جن کے ہزاروں روپے بھی گاہک خوشی سے دے جاتے ہیں‘۔

ایسے کوئی شوقین یاد ہیں جو آپ سے کتابیں خریدتے ہوں اور بعد میں آپ کو ان کی سب کتابیں خریدنا پڑی ہوں؟

’ہاں، ایسا تو ہوتا رہتا ہے۔ ابھی ایک عبدالغنی صاحب انتقال کر گئے ہیں، وہ ہم سے بہت کتابیں لے جاتے تھے۔ جب ان کے گز رنے کی خبر ملی تو ان کے بیٹے سے رابطہ کیا۔ وہ میرا کارڈ لے گئے ہیں۔ اب کسی دن فون کریں گے کہ آکر ابّا کی کتابیں لے جائیں۔ پھر ہم جا کر سب لے آئیں گے۔ ایسا تو ہوتا ہی ہے‘۔

پرانی کتابوں کے اس بازار کے سب سے book merchant’ ‘seasoned یعنی دکاندار مجھے یوسف بھائی لگے تھے۔وہ کراچی کے اس بازار میں سب سے قابل آدمی قرار دیے جاتے تھے۔ ان سے بہت پہلے ملاقاتیں ہوتی تھیں، اب گزر گئے ہیں۔کتابوں کے شوق سے متعلق ان کا کہنا تھا:

’ جس طرح موچی جوتے صرف گانٹھ سکتا ہے۔۔۔ پہن نہیں سکتا، اسی طرح ہم بھی کسی سے کتابیں لے کر، ان کی مرمت کرکے، انھیں دوسرے لوگوں تک امانت سلامت پہنچا سکتے ہیں۔ کتاب پڑھتے نہیں ہیں ہم۔آپ کو سو میں ایک سے بندہ ملے گا جو بکس پڑھنے کا شوقین ہوگا ‘۔

’اور آپ سو میں سے وہی ایک بندے ہیں کیونکہ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ آپ بھی کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کے بڑے شوقین ہیں ‘۔

میں نے یوسف بھائی بک مرچنٹ سے سوال کیاتھا:

’نہیں ،اب تو ہم بھی اتنی کتابیں نہیں پڑھتے۔ گھر میں رکھی پرانی کتابیں بھی لاکر یہاں رکھ دی ہیں… بس دو تین ایسی نایاب کتابیں ہیں جو سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔ ان کا تو یہ ہے کہ قریبی لوگوں کو بھی ان کی ہوا لگنے نہیں دیتے ۔وہ ٹَیم ہی اب نہیں رہا نا۔ ہر کوئی دوسرے کی کاٹ میں رہتا ہے۔ سب سمجھتے ہیں کہ پرانی کتاب جہاں نظر آئے، جھپٹ لو، لاکھوں میں نکل جائے گی۔ ان کو کون سمجھائے کہ بھائی! ہر پرانی چیزقیمتی نہیں ہوتی۔میرے پاس ایک کتاب ایسی ہے ، جس کے لیے میں نے بڑی بڑی ’ آفریں ‘ ٹھکرادی ہیں۔ وہ فلمی اور باتصویر کتاب ہے، وہ آتی نہیں تھی ’پکچروں‘ والی؟ وہی ہے۔ تقریباً ایک صدی قدیم ہے۔ ویسے فلمی کتابیں تو ہفتے پندرہ دن میں ایک آدھ آجاتی ہیں پر پکچرز والی اولڈ بک بہت کم آتی ہے۔ میں نے پکچرز کا معیار دیکھاتو پھریہ ذہن میں سوچ لیا کہ کچھ بھی ہوجائے، یہ کتاب نہیں دینا ہے ۔۔۔اور نہ کسی کو دکھانا ہے۔مگر آج کل یہ جو میڈیا آگیا ہے، چینلوں پر ایسے ایسے پروگرام آتے ہیں کہ بندے کا کتاب اٹھاکر پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔۔۔اس کے علاوہ پڑھنے لکھنے کی جو عادت تھی، سوشل میڈیا نے اس کی ایسی تیسی کر دی ہے۔ اس لیے آج کل اولڈ بک بازار میں بہت ہی کم لوگ آتے ہیں، کیاسمجھے؟ ہمارے ویسے بھی گنے چنے خریدار ہوتے ہیں، ان کو سہولت نہیں ملے گی تو یہ کام بند ہوجائے گا۔ پھر بھی چند شوقین حضرات ہیں جو کبھی ناغہ نہیں کرتے۔ جیسے سحر انصاری صاحب ہیں، وہ جو بیچارے شاعر ہیں۔تو وہ بڑے شوقین ہیں ایسی کتابوں کے۔ دو دو گھنٹے ریڑھیوں ٹھیلوں کو کھنگالتے رہتے ہیں۔ اپنے شوق کی کتابیں نظر آئیں گی توان کے ہزاروں روپے کے بنڈل بندھوا کر لے جاتے ہیں۔ان میں ایک علامہ قرار نقوی صاحب ہیں، ان کے علاوہ قمر سہارنپوری صاحب ہیں، ان کے پاس بھی ماشاء اللہ اچھا ذخیرہ ہوگا۔ بہت سی اچھی’لیڈیز بیگمات ‘بھی آتی ہیں جو اچھی اور قدیم نوعیت کی خوبصورت ’بائنڈنگ‘ دیکھ کر بکس لے جاتی ہیں۔ ان میں کچھ پڑھنے لکھنے والی خواتین بھی ہوتی ہیں جو اپنی پسند کی کتابوں کے نام لکھ کر دے جاتی ہیں اور پھر ہم ادھر ادھر پوچھ گچھ کرکے ان کی پسند والی کتابیں پکڑتے ہیں اور ان لیڈیز کو بلا کر حوالے کردیتے ہیں ‘۔

کراچی میں ایک اور بازار فریئر ہال کے لان پر اتوار ہی کے دن لگتا ہے۔اس بک بازار میں سب سے قابل آدمی ہارون بھائی ہوا کرتے تھے جو اَب نظر نہیں آتے۔ فریئر ہال کے بک بازار میں کتابوں کے شوقینوں کی عموماً دوسری ’قسم ‘آتی ہے جو کتاب کو گھر کی سجاوٹ کے لیے استعمال کرنے کی عادی ہے۔ یہ چونکہ کھاتے پیتے گھروں والے لوگ ہوتے ہیں، اس لیے ان سے قیمت بھی اسی حساب سے وصول کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود کچھ عام شائقین بھی اتوار کو چکر ضرور لگاتے ہیں۔یہاں کے دکانداروں کو شکایت ہے کہ کسٹمر کے لحاظ سے یہاں کام کم ہے کیوں کہ راستے بند ہوگئے ہیں۔ وہ لوگ جو گاڑیوں میں آتے ہیں، ان کو پارکنگ نہیں ملتی تو کتاب کے لیے وہ پندرہ بیس لاکھ کی گاڑی کا رسک نہیں لیتے۔فریئر ہال میں زیادہ تر نئی کتابیں بیچنے والے حاوی ہورہے ہیں۔

یہاں کے ایک پرانے دکاندار نے اپنا تعارف تو تفصیل سے کرایا مگر آن دی ریکارڈ بات کرنے سے انکار کردیا۔ان سے میں نے پہلے ’سدا بہار‘ سوال پوچھا:

’بھائی ! یہ بتائیں کہ کتابیں کس طرح اور کہاں سے سفر کرکے یہاں پہنچتی ہیں؟ ‘

’ یہ تو سمجھ لیں کہ بس گھروں سے آتی ہیں اور گھروں ہی کو جاتی ہیں۔ ہمارے پاس تو ان کا چھوٹا سا ’ اسٹاپ ‘ ہوتا ہے! کباڑ کے اندر ایسی ایسی بکس شامل ہوکر گھروں سے باہر آتی ہیں کہ پوچھیں مت!۔ یا پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ اُکتا جاتے ہیں، خاص طور پر گھر کی لیڈیز کتاب کی دشمن ہوتی ہے۔  وہ بولتی ہے کتابوں نے ’خامخا‘ جگہ گھیری ہوئی ہے، اِس کو ادھر سے نکالو۔ کبھی کتاب پڑھنے والا گھر کا صاحب موجود نہ ہو تو بھوسی ٹکڑوں، پرانی چپلوں اور اخباری ردّی کے ساتھ بڑی نایاب کتابیں ٹھیلوں پر آجاتی ہیں۔ آپ تصور نہیں کرسکتے کہ کیا کیا کتابیں ہمیں کباڑیوں سے ہاتھ آتی ہیں۔ کہنے کو تو ہمارا اپنا کام بھی وہی ہے مگر ہم گھوم پھِر کر یا گھر گھر جاکر ریڑھی پر ردّی نہیں لیتے۔ ہم تو جہاں کا پتہ چلتا ہے کہ وہ فلاں لکھنے والے صاحب گزر گئے ہیں اور ان کی ہزاروں کتابیں رُل رہی ہیں تو اُدھر کے پھیرے لگانا شروع کردیتے ہیں یا پھر ایسے پڑھے لکھے ادیبوں، شاعروں کے والی وارث خود فون کرکے کہتے ہیں کہ بھائی! ہمارے پاس اتنی کتابیں ’ فالتو ‘ ہوگئی ہیں، آکر اپنا حساب کتاب سیٹ کرو اور اٹھاکر لے جائو۔ اس طرح پھر ہم چلے جاتے ہیں، مال کا اندازہ کرتے ہیں، قیمت لگاتے ہیں۔ تھوڑا اوپر نیچے کرکے سودا ہوجاتا ہے تو اٹھواکر گودام میں رکھ دیتے ہیں۔ پھر کتابوں کی چھانٹی کرکے ٹھیلے پر سجا لیتے ہیں ‘۔

ریگل چوک پر پرانی کتابوں کا یہ اتوار بازار اصحابِ علم و فضل کی آرزؤں کا ایسا مرکز ہے، جہاں سے نادر و کمیاب کتابوں کی صورت میں دیرینہ خواہشات کی تکمیل اور پرانے خوابوں کی تعبیر میسر آتی ہے۔اس لیے ہر اتوار کی صبح سورج اور کتابوں کے عاشق ایک ساتھ نمودار ہوتے ہیں۔ فرق بس اتنا ہوتا ہے کہ سورج کی آب وتاب ذرا دیر سے شروع ہوتی ہے اور یہاں گرمیِ بازار اشراق تا چاشت اپنے عروج پر رہتی ہے۔یہاں اہلِ ذوق کی دلداری کا سارا سامان موجود ہے۔

کتابوں کے ایک عجیب عاشق

کتابوں کے ایک اور عاشق مولانا ادریس سومرو کے بارے میں بھی معلوم ہوا کہ وہ سندھ کے معروف عالم، اسلامی نظریاتی کونسل اور کئی دیگر اداروں کے رکن، جامعہ انوار العلوم کنڈیارو خیرپور کے شیخ الحدیث، جامعہ عمر کراچی کے نائب رئیس اور مکتبہ قاسمیہ کنڈیارو کے مدیر ہیں۔ رسمی طالب علمی سے مولانا کی فراغت 1982 ء میں ہوئی اور 1992ء میں انھوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔انھیں سندھی علماء کی تصنیفات وتالیفات کا ذخیرہ جمع کرنے کا شوق ہے۔ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی، مولانا عبیداللہ سندھی اور دیگر سندھی علماء کی کتابوں اور مخطوطات کا ایک قابلِ قدر ذخیرہ انھوں نے اکٹھا کر رکھا ہے۔ سندھ کے کتب خانوں کی ایک فہرست بھی مرتب کی ہے۔ مولانا ادریس سومرو کہتے ہیں کہ لوگوں کو میری ان خدمات کا اندازہ، میرے مرنے کے بعد ہوگا۔انھوں نے کنڈیارو جیسے نسبتاً پسماندہ شہر میں لگ بھگ 80 ہزار کتابوں پر مشتمل لائبریری قائم کی ہے۔ یہ ایک مستقل خدمت ہے مگر اس کے باوجود مولاناسادگی، جفاکشی، مہمان نوازی اور علمی سخاوت کے معاملے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ وہ دسیوں نہیں سیکڑوں افراد کے ساتھ مختلف ڈگریوں کے حصول میں تعاون اور رہنمائی کرچکے ہیں۔ اپنے وسیع مطالعے اور اندرون وبیرون ملک کے مکتبات میں موجود مخطوطات پر نظر کی بنا پر، ہر قسم کی معلومات فراہم کرنے اور اس تک رسائی میں حتی الوسع مدد کے لیے ہر لمحے تیار رہتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

بھارت: کاکروچ تحریک نے نئی  ملک گیر مہم کا اعلان کردیا، مودی حکومت شدید دباؤ کا شکار

78 افراد کو سول اعزاز دینے کی منظوری، محسن نقوی کی زیر صدارت خصوصی کمیٹی کا اجلاس

امریکی فوج کے سربراہ کا ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے پر زور

وزیراعظم شہباز شریف کی مسجد نبویؐ میں حاضری، وفد کے ہمراہ نماز ادا کی

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟