میڈیا مالکان کی ٹانگیں کیوں کانپتی ہیں؟ عمر ایوب نے بتادیا

جمعرات 31 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ آج اڈیالہ جیل حکام نے کہا کہ لکھ کردیں کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں سیاسی بات نہیں ہوگی، اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی لکھ کردیںکہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمرایوب نے کہا کہ جیل حکام نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی، جیل حکام نے کہا کہ ہم لکھ کردیں کہ بنی پی ٹی آئی سے ملاقات میں کوئی سیاسی بات نہیں ہوگئی تو ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا پیغام ہے، قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے، عمرایوب

عمر ایوب نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ، انٹیلیجنس ایجنسیز اور فارم 47 کی وفاقی اور صوبائی حکومت، اور دیگر اداروں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ بھی لکھ کر دیں گے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں پانی نہیں دیا جاتا، ان کا پانی کٹ کیا جاتا ہے، ان کو فوڈ پوائزننگ ہوئی تھی، ان کو ورزش نہیں کرنے دی جارہی اور ان کے سیل کی بجلی بھی بند کی گئی، بشریٰ بی بی کے کھانے میں بھی ہارپک ملایا گیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ جن مشکل حالات میں بشریٰ بی بی اور عمران خان نے جیل میں وقت گزارا ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، عمران خان کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ، حسان نیازی اور ملٹری کورٹس میں ہمارے 84 کارکنان حراست میں ہیں، یہ سب سیاسی قیدی ہیں، ہم ان سب کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکمرانوں نے فون ٹیپنگ قانون منظورکرکے اپنی ہی شہ رگ کاٹ لی، عمرایوب

انہوں نے کہا کہ جب ہم ایجنسیوں کے نام لیتے ہیں تو میڈیا مالکان کی ٹانگیں کانپتی ہیں، چینل مالکان ہمیں کٹ کردیتے ہیں، ٹانگوں میں سانس ڈالیں، کھڑے ہوجائیں اور ملک میں جمہوریت کے لیے آواز اٹھائیں،ہمیں 2 ماہ سے بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا جارہا۔

 ’عمران خان کے پاس مسائل کا حل ہے‘

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا کہ آج ہم نے 6 ہفتوں بعد عمران خان سے ملاقات کرنی تھی، جیل حکام نے ملاقات کی اجازت بھی دی لیکن ساتھ کہا گیا کہ آپ لکھ کردیں کہ آپ عمران خان کے ساتھ کوئی سیاسی گفتگو نہیں کریں گے، جس پر ہم نے ان سے کہا کہ ہم نے یہاں عمران خان سے موسم کا حال ڈسکس کرنا ہے یا کسی کرکٹ میچ پر گفتگو کرنی ہے، ہم ان سے بات کرنے کے لیے آئے ہیں کیوں کہ ان کی پارٹی اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔

’عمران خان اس ملک کا سب سے مقبول لیڈر ہے اور اسے قید میں ڈالا گیا ہے، عمران خان کے پاس پاکستان کے مسائل کا حل ہے، مسائل کی کنجی ہے، پاکستان کے مسائل کو اگر کوئی حل کرسکتا ہے تو وہ عمران خان ہے جو اس وقت پابند سلاسل ہے، تو ہم سے کہا گیا کہ آپ سیاسی گفتگو نہیں کرسکتے، آپ بیان حلفی دیں کہ آپ کوئی سیاسی گفتگو نہیں کریں گے، لیکن ہم نے یہ نہیں کیا، ہم ایسی بات کیوں کریں جو ہم کریں گے نہیں اور کل یہ ہمارے ہی خلاف اسے استعمال کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حربوں اور طور طریقوں سے ملک میں استحکام نہیں آئے گا، اور نہ عوام میں اضطراب اور ٹینشن کی کیفیت ختم ہوگی۔

’انسانی حقوق کی تنظیمیں عمران خان کے سیل کا دورہ کریں‘

نے کہا کہ یہ سفاک حکومت ہے، عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، ان سے کہنا چاہتی ہوں کہ آج ان کے پاس کرسی ہے تو کل ہمارے پاس کرسی ہوگی، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی کرسی ہمیشہ پائیدار رہے گی اور جو جبر آپ پی ٹی آئی کے ساتھ کررہے ہیں اس کا حساب نہیں ہوگا تو حساب ہر چیز کا ہوگا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے ہم اتنے گھنٹے جیل کے باہر بیٹھے رہے، ہمیں کہا گیا کہ آپ لکھ کردیں کہ آپ عمران خان سے سیاسی گفتگو نہیں کریں گے، میں نے کہا کہ ہم آپ کو یہ لکھ کردے سکتے ہیں کہ ہم 6 لوگ عمران خان سے ملاقات کرکے گئے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پہ آئے ہیں، لیکن ہم سیاسی لوگ ہیں سیاسی گفتگو کریں گے، ہم سیاست عبادت سمجھ کرکرتے ہیں۔

زرتاج گل نے کہا ’میری میڈیا کے توسط سے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل ہے کہ ہمارے ساتھ کمیشن بنائیں اور اس اڈیالہ جیل کا دورہ کریں، میرے لیڈر عمران خان کے سیل کا دورہ کریں، کونسی چیز عوام سے اور ہم سے چھپائی جارہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp