کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی تنگ گلیوں سے نکلنے والی عائشہ بلوچ نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ خاص طور پر کراچی کے نوجوانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ سری لنکا میں ہونے والی ایشین کک باکسنگ چیمپیئن شپ 2026 کے فائنل میں انہوں نے بھارتی حریف کو شکست دے کر پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیت لیا، لیکن اس تاریخی کامیابی کے پیچھے برسوں کی ایسی جدوجہد بھی چھپی ہے جس کا ذکر شاید میڈل سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
خصوصی گفتگو میں عائشہ بلوچ نے بتایا کہ ایشین چیمپیئن شپ میں شرکت سے پہلے ہی ان کے ذہن میں ایک خواہش تھی۔ روانگی کے وقت جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس حریف کے خلاف کھیلنا چاہتی ہیں تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ ہر ملک کے خلاف کھیلنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر موقع ملا تو بھارتی کھلاڑی کو ضرور شکست دوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب فائنل میں معلوم ہوا کہ مقابلہ بھارتی کھلاڑی سے ہوگا تو ان کے جذبے میں مزید اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے خود سے وعدہ کیا کہ پاکستان کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیں گی۔ یہی جذبہ انہیں رِنگ میں لے گیا اور آخرکار انہوں نے بھارتی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔
عائشہ بلوچ کے لیے یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کم عمری میں کک باکسنگ کا آغاز کیا اور محدود وسائل کے باوجود مسلسل محنت کرتی رہیں۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈلز جیت چکی ہیں، جن میں وزیراعظم فائٹ، ایشین سطح کے ایونٹس اور ایبٹ آباد میں ہونے والا بیلٹ ٹائٹل بھی شامل ہے۔
مگر ان کی اصل جدوجہد رنگ کے اندر سے زیادہ رنگ کے باہر رہی۔ اورنگی ٹاؤن جیسے علاقے میں کھیلوں کے میدان تک پہنچنا ہی ایک بڑا چیلنج تھا۔ سماجی دباؤ، لوگوں کی تنقید اور مالی مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے خواب کا دامن نہیں چھوڑا۔ عائشہ کے مطابق کئی مرتبہ انہیں یہ سننے کو ملا کہ لڑکیوں کا مارشل آرٹس سے کیا تعلق، مگر انہوں نے ہر منفی بات کو اپنی طاقت بنا لیا۔
انہوں نے بتایا کہ سری لنکا روانگی سے پہلے سب سے بڑا مسئلہ فنڈز کا تھا۔ مختلف اداروں سے تعاون کی کوشش کی، لیکن خاطر خواہ مدد نہ مل سکی۔ محدود وسائل کے ساتھ ایونٹ میں شرکت کی، جہاں سیمی فائنل میں میزبان ملک کی کھلاڑی کو شکست دی اور پھر فائنل میں بھارت کے خلاف کامیابی حاصل کر کے پاکستان کے نام گولڈ میڈل کر دیا۔
عائشہ بلوچ کا کہنا ہے کہ مقابلہ جیتنے کے بعد انہیں مبارکباد کے بے شمار پیغامات موصول ہوئے، مگر عملی تعاون اب بھی ان کا منتظر ہے۔ ان کے بقول سوشل میڈیا پر سیاسی شخصیات سمیت مختلف حلقوں نے حوصلہ افزائی کی، لیکن مالی معاونت یا مستقل سرپرستی کا اعلان اب تک نہیں ہو سکا۔
اپنی آئندہ منزل بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید گولڈ میڈلز جیتنا چاہتی ہیں اور ان کا خواب ہے کہ پاکستان آرمی کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی ملک کا نام روشن کریں۔
عائشہ بلوچ کی کامیابی صرف ایک کھلاڑی کی ذاتی فتح نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت بھی ہے کہ اگر صلاحیت، محنت اور حوصلہ ساتھ ہو تو محدود وسائل بھی بڑے خوابوں کی راہ نہیں روک سکتے۔ تاہم ان کی کہانی ایک اہم سوال بھی چھوڑ جاتی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کرنے والے کھلاڑیوں کو کیا صرف داد اور مبارکباد کافی ہے، یا اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں وہ سرپرستی بھی دی جائے جس کے وہ واقعی مستحق ہیں۔













