امریکی انتخابات میں سوئنگ اسٹیٹس کا فیصلہ کن کردار کیوں؟

جمعہ 1 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدارتی انتخابات میں 7ریاستیں ہمیشہ کی طرح اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس بار بھی سوئنگ اسٹیٹس یعنی ایریزونا، جارجیا، مشی گن، نیواڈا، شمالی کیرولینا، پنسلوانیا اور وسکونسن ہی فیصلہ کریں گی کہ امریکا کا اگلا صدر کون ہوگا۔

ماہرین کے مطابق 2024 کے امریکی انتخابات میں تقریباً 24کروڑ لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ لیکن صرف مٹھی بھر نام نہاد سوئنگ اسٹیٹس ہیں جو ممکنہ طور پر ڈیموکریٹ کملا ہیرس یا ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کا فیصلہ کریں گی۔

رپورٹس کے مطابق دونوں امیدوار اپنی انتخابی مہم کے دوران ان ریاستوں میں غیر فیصلہ کن ووٹروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے 2020 میں گرینڈ کینین اسٹیٹ کی حمایت سے صدارت حاصل کی، جس نے 1990 کی دہائی کے بعد پہلی بار پارٹی کے امیدوار کی حمایت میں ووٹ دیا۔

مزید پڑھیں: امریکی انتخابات میں 4 دن باقی، اب تک کتنے کروڑ امریکی اپنا ووٹ کاسٹ کرچکے؟

7.4 ملین آبادی والی ریاست ایریزونا، میں الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد11 ہے۔ ایریزونا کی میسکیکو کے ساتھ ملنے والی سرحد کے سبب امیگریشن اور اسقاط حمل کے حق سے متعلق تنازعات بھی سامنے آچکے ہیں۔

11 ملین آبادی والی ریاست جارجیا کے الیکٹورل کالج کی تعداد 16 ہے۔ جارجیا کی آبادی کا ایک تہائی حصہ افریقی نژاد امریکی ہے، اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ 2020 میں بائیڈن کی اس ریاست میں کامیابی میں اس آبادی کا اہم کردار تھا۔

10 ملین آبادی اور 15 الیکٹورل کالج رکھنے والی ریاست مشی گن میں گزشتہ 2صدارتی انتخابات میں جو امیدوار کامیاب ہوا، وہی وائٹ ہاؤس تک پہنچا۔

مشی گن میں عرب نژاد امریکیوں کی آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے، یہ ریاست غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل کے لیے امریکی صدر کی حمایت پر ملک گیر ردعمل کی علامت بن گئی ہے۔

6الیکٹورل کالج رکھنے والی ریاست، نیواڈا نے گزشتہ کئی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا ہے، لیکن اس بار قدر مختلف دکھائی دے رہا ہے کیونکہ لاطینی آبادی کا جھکاؤ ریپبلکن کی طرف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ یا کملا ہیرس، روسی صدر کا ’انتخاب‘ کون؟

16الیکٹورل کالج رکھنے والی ریاست شمالی کیرولائنا میں کملا ہیرس کی بطور صدارتی امیدوار نامزدگی کے بعد مقابلہ سخت ہوگیا ہے۔ پنسلوانیا میں الیکٹورل کالج کی تعداد 19 ہے، دیگر ریاستوں کی طرح یہاں بھی معیشت سب سے اہم مسئلہ ہے۔

10 الیکٹورل کالج رکھنے والی ریاست وسکونسن میں رائے شماری کے اندازے آزاد امیدوار رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کی خاطر خواں حمایت کا اشارہ دیتے ہیں۔ اس سے ہیرس یا ٹرمپ کے ووٹ کم پڑ سکتے ہیں، لیکن کینیڈی نے اگست کے اواخر میں اپنی مہم ختم کرکے ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

تاہم، واضح رہے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتیں سوئنگ اسٹیٹس کہلانے والی ان ریاستوں میں، غیر فیصلہ کن ووٹروں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جن کا ووٹ ان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا