’کچھ مقدمات ہمارے پاس بھی رہنے دیں‘ جسٹس منصور علی شاہ نے ایسا کیوں کہا؟

پیر 4 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوئی نادرن گیس کے زائد بلنگ سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس منصور علی شاہ کو اہم کمیٹی کی سربراہی سونپ دی

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کا موقف تھا کہ اس کیس کی نظرِ ثانی درخواست تو ابھی زیرِ التوا ہے، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد اب یہ کیس آئینی بینچ میں سماعت کے لیے مقرر ہوگا۔

جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں، کچھ مقدمات ہمارے پاس بھی رہنے دیں۔

مزید پڑھیں:جسٹس منصور علی شاہ متنازع جج ہیں، آئینی بینچ کے سربراہ نہ بنیں، رانا ثنااللہ

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں کوئی آئینی یا قانونی سوال موجود نہیں ہے، زیرِ التوا نظرثانی کیس میں درخواست گزار سوال اٹھا سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے سوئی نادرن گیس کمپنی کیخلاف زائد بلنگ کیس کو نمٹا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’تحفظ کی قیمت وصول کریں گے‘ ٹرمپ کا سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

وفاق میں تاحیات بلیو پاسپورٹ پر ہم نے تنقید کی، اب خیبرپختونخوا میں ایسا ہونا قابل قبول نہیں، مشتاق غنی

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

ایران کا سخت مؤقف امریکا اسرائیل دوریاں کم کررہا ہے، تہران کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے، ایئر کموڈور (ر) خالد چشتی

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ