ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق صدر مملکت ممنون حسین مرحوم کے مشیر، اسپیچ رائٹر، کالم نگار اور تجزیہ کار ڈاکٹر فاروق عادل کا کہنا ہے کہ  ممنون حسین نے اپنے دور صدارت میں قومی شناخت کے فروغ، اردو زبان کے نفاذ، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے قومی بیانیے کو مضبوط بنانے، کاروباری برادری سے روابط کے استحکام اور کفایت شعاری کو خصوصی اہمیت دی۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ممنون حسین، صدر الہام علی ایو اور ایف 17 تھنڈر طیارے

ممنون حسین کی برسی کے موقعے پر وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فارق عادل نے کہا کہ مرحوم صدر نے ایوان صدر کے اخراجات میں نمایاں بچت کرتے ہوئے کروڑوں روپے فلاحی منصوبوں کے لیے مختص کیے جو ان کی سادہ طرز حکمرانی اور عوامی خدمت کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر فاروق عادل نے بتایا کہ ممنون حسین سے ان کی پہلی ملاقات کراچی میں بطور صحافی ہوئی تھی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوتے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب ممنون حسین گورنر سندھ اور بعد ازاں صدرِ مملکت بنے تو انہیں ان کے ساتھ بطور اسپیچ رائٹر اور مشیر کام کرنے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ ممنون حسین ادب، تاریخ، عربی اور فارسی پر گہری دسترس رکھتے تھے اور انہوں نے درس نظامی کے 4 سال مکمل کیے تھے جبکہ کراچی سے ایم بی اے بھی کیا اسی وجہ سے ان کی تقاریر میں ادبی اور تہذیبی رنگ نمایاں ہوتا تھا۔

مزید پڑھیے: ممنون حسین صاحب!   

ڈاکٹر فاروق عادل کے مطابق ممنون حسین نے بطور صدر یہ اصول اختیار کیا کہ غیر ملکی سربراہان مملکت سے ملاقاتوں اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں ہمیشہ اردو میں خطاب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قومی شناخت کے فروغ کے لیے کیا گیا اور بعد ازاں ایوان صدر میں اردو کے نفاذ پر بھی عملی اقدامات کیے گئے یہاں تک کہ کئی سرکاری امور اور دفتری کارروائیاں اردو میں منتقل ہونا شروع ہوگئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ممنون حسین کا مؤقف تھا کہ اپنی قومی زبان میں تحقیق اور ریاستی امور چلانے سے قومی اعتماد اور فکری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اسی لیے انہوں نے ہر بین الاقوامی فورم پر اردو میں اظہار خیال کو ترجیح دی۔

ڈاکٹر فاروق عادل نے کہا کہ سابق صدر نے سی پیک اور مسئلہ کشمیر کو اپنی سفارتی ترجیحات میں شامل رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممنون حسین کی ہدایت تھی کہ ہر اہم خطاب میں کسی نہ کسی انداز میں سی پیک اور کشمیر کا ذکر ضرور کیا جائے تاکہ عالمی سطح پر ان معاملات کو اجاگر کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ممنون حسین نے کاروباری برادری کے ساتھ بھی قریبی روابط استوار کیے اور معیشت کی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ ان کے مطابق تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا جبکہ سی پیک سے متعلق عوامی آگاہی پیدا کرنے اور اقتصادی مواقع کو اجاگر کرنے کی مسلسل کوشش کی۔

ڈاکٹر فاروق عادل نے انکشاف کیا کہ نائجیریا کو جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی فروخت کے معاہدے کے آغاز میں بھی ممنون حسین کا مؤثر سفارتی کردار تھا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتوں میں ممنون حسین کی گفتگو نے دفاعی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری اور نواز شریف درد دل رکھنے والی شخصیات ہیں، ڈاکٹر فاروق عادل

ڈاکٹر فاروق عادل نے کہا کہ ممنون حسین سمجھتے تھے کہ پاکستان کی معیشت کو سب سے زیادہ نقصان ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسی سے پہنچا اسی لیے وہ آزاد معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حامی تھے۔

پاناما کیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عادل نے کہا کہ ممنون حسین کی رائے تھی کہ اس مقدمے میں کوئی مضبوط قانونی بنیاد موجود نہیں تاہم ایک عوامی خطاب میں کرپشن سے متعلق ان کے ایک عمومی بیان کو بعد ازاں پاناما کیس سے جوڑ کر پیش کیا گیا جس سے سیاسی تنازع پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ممنون حسین انتہائی سادہ مزاج اور کفایت شعار شخصیت کے مالک تھے اور وہ سرکاری وسائل کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتتے تھے حتیٰ کہ ٹشو پیپر کے غیر ضروری استعمال سے بھی گریز کرتے اور اسے قومی وسائل کا ضیاع سمجھتے تھے۔

ڈاکٹر فاروق عادل کے مطابق سابق صدر نے اپنے دور میں ایوان صدر کے بجٹ میں ہر سال کروڑوں روپوں کی بچت کی جسے مختلف فلاحی منصوبوں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر میں نمل یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کے لیے بھی اسی بچت سے مالی معاونت فراہم کی گئی تاہم ممنون حسین نے اس ادارے کو اپنے نام سے منسوب کرنے کی مخالفت کی اور قومی رہنماؤں کے نام تجویز کیے۔

یہ بھی پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پرویز مشرف کے مارشل لا کے وقت رفیق تارڑ نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا تھا؟

انہوں نے مزید کہا کہ ممنون حسین کے دور میں ایوان صدر کا ماحول ایک خاندان کی طرح تھا جہاں سادگی، نظم و ضبط، کفایت شعاری اور قومی مفاد کو ہر فیصلے پر ترجیح دی جاتی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان، بیشتر علاقوں میں گرمی اور حبس برقرار

امریکا اور ایران میں نئی کشیدگی، برینٹ خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

افغانستان: خواتین پر کریک ڈاؤن، سرکاری لباس ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں درجنوں گرفتار

بلوچستان میں ڈیجیٹل گورننس کا فروغ، ای ڈومیسائل نظام کا آغاز

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے نئی تاریخ رقم کر دی، پہلی بار 4.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

کالم / تجزیہ

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ