وفاق میں تاحیات بلیو پاسپورٹ پر ہم نے تنقید کی، اب خیبرپختونخوا میں ایسا ہونا قابل قبول نہیں، مشتاق غنی

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی و سینیئر رہنما پاکستان تحریک انصاف مشتاق غنی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کو دی جانے والی مراعات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز میں تاحیات بلیو پاسپورٹ کی تجویز پر ان کی جماعت نے شدید تنقید کی تھی، لیکن اب اگر ان کے اپنے صوبے میں وہی اقدامات کیے جا رہے ہیں تو یہ انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔

پشاور میں وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان مراعات کے سخت خلاف ہیں۔ ’ہمارے دور میں عمران خان خود موجود تھے، اور ان کی موجودگی میں کوئی مراعات کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘

مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور اپنی حکومت پر برس پڑے، ’بلیو پاسپورٹ اور مراعات مانگنے والے اراکین کے نام سامنے لائے جائیں‘

مشتاق غنی، جو خود بھی خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن ہیں، نے ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے مراعات دینے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق کابینہ سے منظور ہونے والی ترامیم اور اسمبلی سے منظور ہونے والی ترامیم میں فرق ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ نے خود تصدیق کی ہے کہ کابینہ کی منظوری کے بعد اسمبلی میں مزید ترامیم کی گئیں اور کئی نئی شقیں شامل کی گئیں۔ ان کے مطابق تاحیات بلیو پاسپورٹ سمیت بعض دیگر شقیں بھی اسمبلی میں شامل کی گئیں۔

مشتاق غنی نے کابینہ اراکین کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’اگر کابینہ سے منظور شدہ ترامیم میں ردوبدل کیا گیا تھا تو کابینہ اراکین کو اس پر بات کرنی چاہیے تھی، اور اگر انہیں بل کی تفصیلات سمجھ نہیں آئیں تو کم از کم اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جانا چاہیے تھا تاکہ اس پر کھل کر بحث ہوتی۔‘

انہوں نے کہاکہ اراکین اسمبلی کو پہلے ہی بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے، لہٰذا اسے تاحیات کرنے کی کیا ضرورت ہے، خصوصاً جب اس سہولت کو ان کی بیگمات تک بھی توسیع دی جا رہی ہو۔

انہوں نے مزید کہاکہ اراکین اسمبلی کے لیے 4 اسلحہ لائسنس کافی ہیں، 8 لائسنس دینے کی کیا ضرورت ہے؟ ’ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو سہولت عام لوگوں کے لیے دستیاب ہو، وہی اراکین اسمبلی کے لیے بھی ہونی چاہیے، اضافی مراعات کی کوئی ضرورت نہیں۔‘

مشتاق غنی نے کہاکہ عمران خان سرکاری خرچ پر مفت رہائش کے بھی سخت مخالف ہیں، اس لیے اراکین اسمبلی کو سرکاری گیسٹ ہاؤسز میں 3 دن مفت قیام کی سہولت دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا، ’عمران خان نے اپنے دور حکومت میں بیشتر سرکاری گیسٹ ہاؤسز نجی شعبے کے حوالے کیے تھے۔ اگر کہیں دو چار گیسٹ ہاؤسز موجود بھی ہیں تو وہاں مفت رہائش کی سہولت دینے کی کیا ضرورت ہے؟‘

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور اہلیہ کو بلیو پاسپورٹ، ٹول ٹیکس فری، ایئرپورٹ پر پروٹوکول، نئی مراعات میں مزید کیا ملے گا؟

انہوں نے کہاکہ ترامیم کے ذریعے مراعات دینے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کے اپنے کارکنوں نے بھی اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ ’کوئی اور جماعت مراعات دے تو الگ بات ہے، لیکن پی ٹی آئی میں ایسی مراعات کی کوئی گنجائش نہیں، ہمارے قائد اور کارکن دونوں اس کے خلاف ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان، بیشتر علاقوں میں گرمی اور حبس برقرار

امریکا اور ایران میں نئی کشیدگی، برینٹ خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

افغانستان: خواتین پر کریک ڈاؤن، سرکاری لباس ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں درجنوں گرفتار

بلوچستان میں ڈیجیٹل گورننس کا فروغ، ای ڈومیسائل نظام کا آغاز

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے نئی تاریخ رقم کر دی، پہلی بار 4.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ