برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

پیر 13 جولائی 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

9 جولائی کی شام  ہی کو  ٹی وی اسکرینیں یہ بتانے لگیں کہ جلد ہی ڈی جی آئی ایس پی آر اہم خطاب کریں گے۔ عموماً یہ خطاب طویل ہوتا ہے مگر اس دفعہ بات مختصر بھی تھی اور واضح بھی۔ چند دنوں سے دہشتگردوں کے حملوں کے حوالے سے بہت پریشان کن خبریں آ رہی تھیں۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ جہاں بے شمار دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، وہاں ہمارے بہت سے جوانوں نے بھی بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا ہے۔ یہ جری جوان کتنے تھے؟ اس کے بارے میں ابہام تھا۔ میڈیا بھی لب کشائی سے گریز کر رہا تھا۔ واٹس ایپ گروپس میں افواہ نما خبریں چل رہی تھیں جن پر یقین کرنے کا یارا نہیں تھا۔

9 جولائی کی شام کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے جہاں 54 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے کی نوید سنائی، وہاں فوج، پولیس، دیگر سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور عام عوام میں سے 42 افراد کی شہادت کی خبر بھی سنائی۔ 42 افراد۔۔۔ بہت بڑی قربانی ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کے آپریشنز میں اتنا نقصان نہ پہلے ہوا، نہ اس کی کوئی نظیر ملتی ہے۔

معاملات اب بہت آگے چلے گئے ہیں۔ یہ بات اب اکثر ہونے لگی ہے کہ خیبر پختونخوا کے بہت سے علاقوں میں  صوبائی حکومت کی کوئی عملداری نہیں۔ وہاں کے وزرا طالبان کو بھتہ دے کر اپنی حفاظت کو ممکن بنا رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں پولیس شام کو روپوش ہو جاتی ہے۔ ایسے بھی علاقے ہیں جہاں سورج ڈوبنے کے بعد صرف لاقانونیت کا راج ہوتا ہے۔

عمران خان کے دور میں ایک غلط فیصلے نے پوری قوم کو دہشتگردوں کے سامنے جھونک دیا۔ وہ دہشتگرد جنہیں ہم نے نکال باہر کیا تھا، ان کو دوبارہ بہ فرمائش لا کر بسایا گیا، ان کے دفاتر کھولنے کی درخواست کی گئی، ان کے استقبال کا حکم دیا گیا۔ اس احمقانہ اقدام نے اس دھرتی کو بہت نقصان پہنچایا۔ بہت سی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ بہت سی املاک تباہ ہوئیں۔ اس فیصلے نے مندمل زخموں کو پھر سے کھرچ دیا۔ پھر سے اس ارضِ مقدس کے جسم سے خون بہنے لگا۔

دہشتگردی کی جنگ لڑتے لڑتے ہمیں ایک زمانہ بیت گیا۔ انہی خبروں کو سنتے سنتے ایک نسل پہلے جوان تھی اور اب ادھیڑ عمر ہو گئی ۔ مرنے والوں کی تعداد، ماؤں کی آہ و بکا، بچوں کی چیخیں، ایمبولینسوں کے سائرن اور تعزیت کے پیغامات سنتے سنتے ہماری یادداشت میں نقش ہو چکے ہیں۔ کئی دہائیاں اسی جنگ میں گزر گئیں۔ اب الم کی کیفیت مسلسل ہوتی جا رہی ہے۔ مگر ان دہشتگردوں کی کارروائیوں کا سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آ رہا۔ اب بات برداشت سے باہر ہو رہی ہے۔ اب معاملہ حد سے گزر گیا ہے۔

چند دنوں میں 42 شجیع جوانوں کا جامِ شہادت نوش کرنا بہت بڑا واقعہ ہے۔ ان کی دلیری کے قصیدے پڑھنا تو فرض ہے مگر دہشتگردوں کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا بھی ضروری ہے۔

بلوچستان کے منظرنامے کو دیکھیں تو دشمن وہاں پر بھی روپ بدل کر سامنے آتا ہے۔ کبھی وہ کسی دہشتگرد تنظیم کا روپ دھار لیتا ہے، کبھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے بہروپ میں نظر آتا ہے، کبھی سوشل میڈیا کے ٹرینڈ میں دکھائی دیتا ہے۔ کبھی واٹس ایپ کے گروپوں میں لوگوں کو آمادۂ بغاوت کرتا نظر آتا ہے۔ ہمارے جوان اپنی جانوں کو اس ارضِ پاک پر قربان کر رہے ہیں مگر جس صوبے میں یہ اہم خبر ہو کہ وزیرِ اعلیٰ نے ایک مقام سے دوسرے مقام تک گاڑی میں بحفاظت سفر کیا، اور اس پر نوید یہ سنائی گئی کہ نہ ان پر کوئی دہشتگردی کا حملہ ہوا، نہ ان کے قافلے کو کوئی گزند پہنچی، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عام پاکستانی کے لیے بلوچستان کے علاقوں میں سفر کتنا پُرخطر ہے۔ بسوں کے مسافروں کو کون کون سے خطرات درپیش ہیں؟ ٹرین کی سواریوں کو کن خدشات کا سامنا ہے؟ ان کی زندگی کتنی محفوظ ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب تشنہ ہے۔ جس کے جواب کی تلاش میں بلوچستان بھی ہے اور پاکستان بھی۔

ماشخیل، بلوچستان میں معصوم دیہاڑی دار مزدوروں کا بہیمانہ قتل  اسی دہشتگردی  کی کڑی ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے یہ محنت کش حلال روزی کمانے کے لیے بلوچستان آئے تھے اور ان کا قتل بلوچ روایاتِ مہمان نوازی اور قومی یکجہتی دونوں پر حملہ ہے۔ اس افسوسناک واقعے کی ہر سطح پر غیرمشروط مذمت ہونی چاہیے، جبکہ اس پر BYC اور HRCP  خود کو انسانی حقوق کا علمبردار کہنے والوں کی خاموشی بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔

سارے حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اب ایک حتمی، فیصلہ کن اور آخری آپریشن کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا آپریشن جس کے بعد کسی آپریشن کی ضرورت نہ پڑے۔ اب کسی تردد اور توجیہ کی ضرورت نہیں۔ اب کسی دلیل یا دعوے کی ضرورت نہیں۔ اب دشمن کی شکل اور ارادے واضح ہو چکے ہیں۔

تاریخ کا یہ مرحلہ بہت اہم ہے۔ ہم عسکری میدان میں اپنے سے کہیں بڑے دشمن کو پچھاڑ چکے ہیں۔ ہم عسکری میدان میں دنیا بھر میں عزتیں سمیٹ چکے ہیں۔ ہمارے نام کا ڈنکا اب دنیا میں بجتا ہے۔ معرکۂ حق کی کامیابی کے بعد دنیا ہمیں فاتح اور بھارت کو مفتوح کی نظر سے دیکھتی ہے۔ ہماری دلیر افواج کا ڈنکا دنیا بھر میں بج رہا ہے۔ ایک زمانہ ہماری شجاعت کے گیت گا رہا ہے۔ ایک عہد ہماری دلیری کے نام سے پہچانا جا رہا ہے۔

اس وقت حالات موافق ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو پوری عوامی تائید حاصل ہے۔ اہلِ پاکستان اس فتنۂ الہندوستان سے نجات چاہتے ہیں۔ بیانیے کے محاذ پر بھی کوئی ابہام موجود نہیں۔ قوم یکسو بھی ہے اور اس موضوع پر متحد بھی۔ اب حتمی کارروائی کی ضرورت ہے جس سے یہ فتنہ جڑ سے ختم ہو جائے۔ ایک آخری وار درکار ہے جس سے نفرت کے ان پیروکاروں کا قصہ ہی تمام ہو جائے۔ ایک دفعہ یک جان ہو کر سب کو نعرۂ تکبیر لگا کر اللہ کے شیروں کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نہ اب انتظار کی تاب ہے، نہ ضبط کا یارا۔ اب اس زخم رسیدہ قوم کو آخری معرکہ درکار ہے کیونکہ برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کی عبوری ضمانت میں 28 جولائی تک توسیع

وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کی امیر قطر سے ملاقات، شیخ حمد بن خلیفہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار

انجلینا جولی کی بیرونِ ملک منتقلی کیوں کھٹائی میں پڑ گئی؟ حیران کن وجہ سامنے آگئی

سندھ ہائیکورٹ نے نائلہ رند خودکشی کیس میں عمر قید پانیوالے ملزم کو بری کر دیا

بھارت: 14 افراد کو عمر قید سنانے والی مسلمان خاتون جج  کو ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیاں

ویڈیو

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت بنانے جارہی ہے، وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے، محمد حنیف ملک

کالم / تجزیہ

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ

کیا آپ اپنے دماغ کو پھر سے جوان کر سکتے ہیں؟