جسٹس منصور کا فائلوں پر دستخط سے انکار، بطور انتظامی جج ذمہ داریاں ادا کرنے سے معذرت

بدھ 25 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انتظامی جج سپریم کورٹ میں ذمہ داریاں ادا کرنے سے معذرت کرلی۔

یہ بھی پڑھیں:جوڈیشل کمیشن کا 6 دسمبر کا اجلاس مؤخر کیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر موسٹ جسٹس، جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انتظامی جج سپریم کورٹ ذمہ داریاں ادا کرنے سے معذرت کرتے بھیجی گئیں انتظامی فائلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انتظامی جج سپریم کورٹ ذمہ داریاں ادا کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ وہ انتظامی جج کےعہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور کو ایڈمنسٹریٹو جج سپریم کورٹ مقرر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھے گا کیا ہم غیر آئینی ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ

واضح رہے کہ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کے چیف جسٹس تعینات کیے جانے سے قبل سینیئر موسٹ جج ہونے کے ناتے حسب روایت جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس کا حلف اٹھانا تھا، مگر پی ٹی آئی کی جانب سے ان کی بیجا حمایت اور خود جسٹس منصور کے متنازع فیصلوں نے ان کی تعیناتی کو مشکل میں ڈال دیا تھا، یہی وجہ رہی کہ 26ویں  آئینی ترمیم کے بعد چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار پارلمینٹ کو منتقل ہونے پر جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس آف پاکستان تعینات کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ جسٹس منصور 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی عدم اطمینان کا شکار رہے ہیں، اور اس حوالے سے وہ چیف جسٹس آف پاکستان کو خط بھی لکھ چکے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کی گئی تھی جبکہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف 2 درجن سے زائد درخواستیں زیرالتوا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھے گا کیا ہم غیر آئینی ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ

اپنے خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں منظور بھی ہوسکتی ہیں اور مسترد بھی، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست اگر منظور ہوتی ہے تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی وقعت ختم ہو جائے گی۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا ایسی صورتحال ادارے اور ممبران کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی، لہٰذا 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کا فیصلہ ہونے تک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مؤخر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ’کچھ مقدمات ہمارے پاس بھی رہنے دیں‘ جسٹس منصور علی شاہ نے ایسا کیوں کہا؟

خط میں چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیں اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو درخواستیں سماعت کے لیے لگانے کا حکم جاری کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام قبول کرنے والی لڑکی کو دارالامان بھیجنے کا حکم، آئینی عدالت میں اہم ریمارکس

بہاولپور پلازہ تنازع کیس: وکیل کی فیس واپسی اور ’ڈن بیسز ریلیف‘ پر اہم عدالتی فیصلہ

پشاور: امریکی قونصل خانہ کی بندش، اب سفارتی امور کہاں انجام دیے جائیں گے؟

27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار

اسٹاک مارکیٹ میں اعتماد بحال، سرمایہ کار اکاؤنٹس میں ریکارڈ اضافہ

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی