ماسکو میں سابق شامی صدر بشار الاسد زہر کا شکار، برطانوی اخبار کا دعویٰ

جمعہ 3 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی اخبار ’دی سن‘ نے ٹیلی گرام کے معروف روسی اکاؤنٹ ’جنرل ایس وی آر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد کو ماسکو میں زہر دے دیا گیا ہے جس سے وہ شدید علیل ہوگئے۔

بشار الاسد کے بارے میں یہ غیرمصدقہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ شام کے دارالحکومت دمشق پر 8 دسمبر کو باغیوں کے قبضہ ہونے پر ملک چھوڑ کر روس فرار ہوگئے تھے۔

 شام پر باغیوں کے قبضے کے بعد سابق صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور حکومت ختم ہوا اور اس کے ساتھ ہی ان کے خاندان کی نصف صدی سے زائد عرصہ کی حکمرانی بھی اختتام کو پہنچی۔

ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ بشار الاسد اتوار کے روز شدید بیمار ہوئے اور انہیں سانس لینے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ خبر کے مطابق طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے بشار الاسد کے کھانے میں زہر ہونے کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیے:’میں لڑنا چاہتا تھا لیکن۔۔۔۔‘ مفرور شامی صدر بشارالاسد کا پہلا بیان سامنے آگیا

ٹیلی گرام پر نشر ہونے والی اس خبر کے مطابق بشارالاسد کا ان کے اپارٹمنٹ میں ہی علاج کیا گیا جس کے بعد پیر کے دن ان کی حالت سنبھل گئی۔

ابھی تک اس دعوے کی روسی حکام یا کسی آزاد ذرائع نے تصدیق نہیں کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟