34 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں، حماس

پیر 6 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے تحت 34 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہے۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حماس کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ ان 34 یرغمالیوں کی رہائی کی منظوری اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ان یرغمالیوں میں خواتین، بچے، بزرگ اور بیمار افراد شامل ہوں گے۔

حماس کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکا کی ثالثی میں مذاکرات کی کوششیں ہورہی ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ انہیں حماس کی جانب سے ممکنہ طور پر رہا کیے جانے والے یرغمالیوں کی فہرست تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:غزہ: سرنگ سے امریکی شہری سمیت 6 یرغمالیوں کی لاشیں برآمد

حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ایک سال سے زائد عرصے سے جاری اس تنازعے کی خاتمے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے جس میں اب تک 45000 کے قریب فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟