حلف اٹھانے کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے صنف اور تنوع سے متعلق امریکا کی حکومتی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈرز جاری کیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن انتظامیہ کے ان احکامات کو واپس لے لیا ہے جسے اب وائٹ ہاؤس نے ’وفاقی حکومت کی ہر ایجنسی اور دفتر میں غیر مقبول، مہنگائی، غیر قانونی، اور بنیاد پرست طرز عمل‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف بھی صدر ٹرمپ کے نشانے پر آگیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منسوخ کیے جانیوالے 2 احکامات میں سے ایک وہ بھی تھا جس میں صنفی شناخت یا جنسی رجحان کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو روکنے کی سابق صدر جو بائیڈن کی ہدایت شامل ہے۔
ٹرمپ نے ایک اور حکم نامے پر بھی دستخط کیے جس میں صرف 2 جنسں یعنی مرد اورعورت کو تسلیم کیا گیا ہے، اس اعلان کے ساتھ کہ انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
پیر کو اپنے افتتاحی خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج سے ریاست امریکا کی حکومت کی سرکاری پالیسی ہوگی کہ صرف 2 جنس ہیں، مرد اور عورت، صدر ٹرمپ نے اس بارے میں وسیع تر وعدے کیے ہیں جن کو قدامت پسند ثقافت، جنس اور تنوع، مساوات اور شمولیت پروگرام کے طور پر مسترد کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے دن کونسے بڑے فیصلے کیے؟
ایک اور ہدایت جسے صدر ٹرمپ نے منسوخ کیا وہ نسلی مساوات اور پسماندہ کمیونٹیز کی حمایت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے جاری کی گئی تھی، ایک انتظامی آفیسر کے مطابق صدارتی حکم ناموں میں ایک ’تنوع، مساوات اور شمولیت‘ کو حکومت کے اندر سے ختم کردے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد سے کئی بڑی امریکی کمپنیوں بشمول میک ڈونلڈز، والمارٹ اور فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے اپنے’ تنوع، مساوات اور شمولیت‘یعنی ڈی ای آئی پروگراموں کو ختم یا کم کر دیا ہے۔
ایپل اور خوردہ فروشں ٹارگٹ اور کوسٹکو جیسی دوسری کمپنیوں نے عوامی سطح پر اپنے موجودہ پروگراموں کا دفاع کیا ہے، ڈی ای آئی کے حمایتی پروگراموں کو نسل، جنسیت اور دیگر خصوصیات کی بنیاد پر دیرپا امتیاز کو درست کرنے کے طریقے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
تاہم، 2023 کے بعد سے ڈی ای آئی پروگراموں کا منظرنامہ تبدیل ہو گیا ہے، جب امریکی سپریم کورٹ نے امریکی یونیورسٹیوں کو طلبا کے داخلے کے عمل میں درخواست دہندگان کی نسل پر غور کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
مزید پڑھیں:صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدہ صدارت سنبھالنے پر مبارکباد
اس پالیسی کا مقصد، جسے مثبت کارروائی کہا جاتا ہے، اعلیٰ تعلیم میں حائل تاریخی نسلی اور نسلی تفاوت کا مقابلہ کرنا تھا، ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی امریکا میں خواجہ سراؤں کے حقوق کی توسیع کے حق اور مذہبی قدامت پسندوں کی طرف سے بڑھتی ہوئی تنقید کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے 2024 کی پوری مہم کے دوران صنف کے بارے میں روایتی نقطہ نظر کی حمایت کی تھی اور انہوں نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ خواجہ سراؤں کے حقوق کی حمایت کرنے پر ڈیموکریٹس کو ہدفِ تنقید بنایا تھا۔
مزید پڑھیں:صدر ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد ایلون مسک پر نازی سلیوٹ دینے کا الزام
پروجیکٹ 47، ٹرمپ مہم کے لیے سرکاری پالیسی پلیٹ فارم، نے بنیاد پرست صنفی نظریہ کے ساتھ ساتھ بچوں پر نامناسب نسلی، جنسی یا سیاسی مواد” کے لیے وفاقی فنڈنگ میں کمی کا وعدہ کیا۔
صدر ٹرمپ نے ان پالیسیوں پر تنقید کی ہے جو ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس، اسکول جانے کی عمر کے کھلاڑی، کالج کے ایتھلیٹس اور پیشہ ور افراد، کو ان ٹیموں میں کھیلنے کی اجازت دیتی ہیں جو ان کی صنفی شناخت کے مطابق ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ نے کرپٹوکرنسی لانچ کردی، نومنتخب صدر پر عہدہ کیش کرنیکا الزام
یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اس سے خواتین کے کھیلوں کے پروگراموں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھی ریپبلکنز نے ٹرانسجینڈر نابالغوں کے لیے مخصوص قسم کے طبی علاج پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
سرکاری سطح پر صرف 2 جنسوں کا اعلان کرنے والے حکم کے وسیع پیمانے پر مضمرات ہو سکتے ہیں۔ کچھ امریکی اور عالمی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ افراد کو ان کی صنفی شناخت یا اظہار کی بنیاد پر الگ کرنا جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر جوبائیڈن کے 4 سالہ دور اقتدار کو بدترین قرار دیدیا
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ سخت صنفی اصول متنوع صنفی شناخت والے لوگوں کو بھی منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ ’جنہیں صحت کی دیکھ بھال کی ترتیبات سمیت اکثر تشدد، بدنامی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
پیر کے روز، ٹرمپ نے ایک مختلف ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے جس کا مقصد امریکہ کو عالمی ادارہ صحت سے نکالنا تھا۔














